منگلورو (فکروخبرنیوز) ساحلی کرناٹک کے عازمینِ حج کے دیرینہ خواب کو شرمندۂ تعبیر کرتے ہوئے منگلورو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بجپے میں مجوزہ "منگلورو حج بھون” کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ کرناٹک اسٹیٹ حج کمیٹی کے تحت تعمیر ہونے والا یہ پراجیکٹ تقریباً 20 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جا رہا ہے، جس کی تکمیل کا ہدف ڈیڑھ سال مقرر کیا گیا ہے۔ اس کی تعمیر سے بھٹکل کے عازمین حج کے لیے بھی بڑی سہولیات فراہم ہونے کی امید کی جارہی ہے۔
سنگِ بنیاد کی اس پروقار تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کرناٹک اسٹیٹ حج کمیٹی کے چیئرمین سید ذوالفقار خان نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے اس اہم منصوبے کے لیے 20 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے، جس میں سے سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کے دور میں 10 کروڑ روپے کی رقم پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60,547 مربع فٹ کے وسیع رقبے پر محیط یہ حج بھون اپنے منفرد طرزِ تعمیر کے لحاظ سے ملک بھر میں ایک ممتاز حیثیت رکھے گا اور اس کی نظیر کہیں اور نہیں ملے گی۔ تقریب کے دوران سمستھ کے صدر سید جفری متبو کویا تھنگل نے خصوسی دعا فرمائی، جبکہ ریاستی وزیر برائے حج و اوقاف یو ٹی قادر نے سنگِ بنیاد کی رسم ادا کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سید ذوالفقار خان نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے عمرہ زائرین کے ساتھ دھوکہ دہی کی شکایتوں کے ازالے کے لیے، حج و اوقاف کے وزیر یو ٹی قادر کی ہدایت پر کرناٹک اسٹیٹ حج کمیٹی جلد ہی خود عمرہ سروسز شروع کرنے جا رہی ہے تاکہ زائرین کو شفاف اور معیارِ خدمت کے ساتھ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ آنے والے حج سیزن میں منگلورو سے براہِ راست فلائٹ ممکن نہیں ہوگی، لیکن اگلی بار سے عازمینِ حج کو منگلورو ایئرپورٹ سے ہی روانہ کرنے کی تمام ضروری ترتیبات مکمل کی جائیں گی۔
وزیر ضمیر احمد خان نے اس منصوبے کو خطے کا ایک تاریخی خواب قرار دیتے ہوئے اراضی عطیہ کرنے والے معروف تاجر عنایت علی اور ڈاکٹر ینپویا عبداللہ کنہی کی کاوشوں کو سراہا۔ تقریب میں وزیر برائے شہری ترقیات یتیندر سدرامیا، جنوبی کنڑ کے قاضی پانا کاڈ سید ناصر عبدالحی شہاب الدین باعلوی تھنگل، اڈپی کے جوائنٹ قاضی منی عبدالحمید مسلیار، رکنِ راجیہ سبھا منصور علی خان اور کئی اہم ملی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ منگلورو حج مینجمنٹ کمیٹی کے صدر حاجی ڈاکٹر ینپویا عبداللہ کنہی نے استقبالیہ کلمات پیش کیے اور عنایت علی نے تمہیدی خطاب کیا۔




