ہاپوڑ کورٹ میں اسد الدین اویسی کی پیشی: 2022 میں قافلے پر ہوئے فائرنگ کیس میں درج کرایا بیان

کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی 2022 کے مشہور فائرنگ واقعے میں اپنا بیان درج کرانے کے لیے اتر پردیش کے ضلع ہاپوڑ کی مقامی عدالت میں پیش ہوئے۔ یہ معاملہ ان کے کافلے پر اس وقت ہوئے قاتلانہ حملے سے متعلق ہے جب وہ دہلی-میرٹھ ہائی وے سے گزر رہے تھے۔ ایم پی اویسی کی عدالت میں آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالتی احاطے اور اس کے اطراف میں انتہائی سخت حفاظتی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ونیت بھٹناگر کے مطابق اویسی کی کورٹ میں پیشی کے پیش نظر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ عدالت کی عمارت اور اہم راستوں پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی تھی تاکہ رکن پارلیمنٹ کی آمد اور روانگی کے دوران امن و امان برقرار رہے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام صورتحال اور سیکورٹی پر براہ راست نظر رکھے ہوئے تھے۔

واقعے کے پس منظر پر نظر ڈالیں تو یہ حادثہ 3 فروری 2022 کو اس وقت پیش آیا تھا جب اسد الدین اویسی اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی مہم ختم کر کے دہلی واپس لوٹ رہے تھے۔ پلکھوا کے قریب چھجیسی ٹول پلازہ کے پاس مسلح افراد نے ان کی گاڑیوں کے کافلے پر اچانک فائرنگ کر دی تھی۔ اس حملے میں گاڑی پر گولیاں لگی تھیں، تاہم اسد الدین اویسی اس جان لیوا حملے میں محفوظ رہے تھے اور انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔

پولیس نے اس معاملے کی تفتیش کرتے ہوئے دو اہم ملزمین کو گرفتار کیا تھا، جن کی شناخت گوتم بدھ نگر کے رہنے والے سچن اور سہارنپور کے رہائشی شبھم کے طور پر ہوئی تھی۔ دورانِ تفتیش ملزمین نے انکشاف کیا تھا کہ حملے میں استعمال ہونے والے اسلحہ میرٹھ کے رہنے والے علیم نامی شخص نے فراہم کیے تھے۔ جس کے بعد پولیس نے علیم کو بھی مجرمانہ سازش کی دفعہ 120B کے تحت گرفتار کر لیا تھا۔ اس وقت یہ تینوں ملزمین عدالت سے ضمانت پر باہر ہیں۔

پولیس نے اس کیس کی مکمل تفتیش کے بعد عدالت میں تقریباً 1900 صفحات پر مشتمل ایک ضخیم چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس چارج شیٹ میں ملزمین کے خلاف اقدامِ قتل (دفعہ 307)، کرمنل لا ترمیمی ایکٹ کی دفعہ 7 اور سازش کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مقدمے کو مضبوط بنانے کے لیے 60 گواہوں کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں 12 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد سے یہ کیس ہاپوڑ کی عدالت میں زیر التوا تھا جہاں اب قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

رکن پارلیمنٹ کی جانب سے عدالت میں اپنا بیان درج کرائے جانے کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ اس مقدمے میں گواہوں کے بیانات اور جرح کے عمل میں تیزی آئے گی۔ سیاسی و عوامی حلقوں میں اس کیس کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ ایک عوامی نمائندے اور قومی لیڈر پر انتخابی مہم کے دوران حملہ جمہوری اقدار اور امن و امان کے حوالے سے انتہائی سنگین نوعیت کا حامل ہے۔

شیئر کریں۔