جکارتہ : انڈونیشیا ہفتے کے روز یکے بعد دیگرے آنے والے دو طاقتور زلزلوں سے لرز اٹھا، جہاں مشرقی حصے میں 7.7 شدت کے تباہ کن زلزلے کے چند گھنٹے بعد شمالی سماٹرا میں 6.8 شدت کا ایک اور زلزلہ محسوس کیا گیا۔ پہلے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 47 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی اور تقریباً 2 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔
مشرقی انڈونیشیا کے جزیرے فلوریس کے قریب آنے والے پہلے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 5:58 بجے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا، جس کا مرکز فلوریس جزیرے کے اینڈے شہر سے تقریباً 68 کلومیٹر شمال-شمال مغرب میں تھا۔ زلزلے کے نتیجے میں متعدد مکانات اور دیگر عمارتیں منہدم ہوئیں جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی اہم راستے بھی بند ہوگئے۔
زلزلے کے بعد حکام نے ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات اور بلند علاقوں کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی، تاہم بعد میں خطرناک حد تک سمندری سطح میں اضافے کا امکان کم ہونے پر وارننگ واپس لے لی گئی۔ بعض علاقوں میں ایک میٹر سے زائد بلند لہریں بھی ریکارڈ کی گئیں۔
چند گھنٹوں بعد سماٹرا بھی لرز اٹھا
پہلے زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے دوران ہی شمالی سماٹرا میں 6.8 شدت کا دوسرا طاقتور زلزلہ محسوس کیا گیا۔ جرمن ریسرچ سینٹر فار جیوسائنسز (GFZ) کے مطابق اس زلزلے کی گہرائی تقریباً 158 کلومیٹر تھی، جس کے باعث انڈونیشیا کے ایک وسیع حصے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ بعض دیگر اداروں نے اس کی شدت 6.9 بھی بتائی ہے۔ (
دوسرے زلزلے نے پہلے سے خوف و ہراس میں مبتلا لوگوں کی تشویش میں مزید اضافہ کردیا، تاہم دستیاب ابتدائی اطلاعات میں اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
ادھر پہلے زلزلے کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن لینڈ سلائیڈنگ، بجلی کی بندش اور مواصلاتی نظام میں خلل کے باعث امدادی ٹیموں کو بعض دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر ناگیکیو کے قریب کے علاقوں میں سڑکیں بند ہونے کے باعث امدادی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
انڈونیشیا بحرالکاہل کے زلزلہ خیز خطے Ring of Fire میں واقع ہونے کے باعث دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے کثرت سے آتے ہیں۔ ہفتے کے واقعات نے ایک ہی دن میں ملک کے مختلف حصوں میں زلزلہ خیزی کے خطرے کو نمایاں کردیا ہے۔




