امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک باضابطہ ایگزیکٹیو آرڈر جاری کرتے ہوئے ہندوستان سمیت پانچ ممالک کو روس سے تیل اور گیس خریدنے پر مجوزہ بھاری ٹیرف اور پابندیوں سے مکمل استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کی شام وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے اس صدارتی فرمان کے مطابق ہندوستان کے علاوہ چین، ہنگری، سلوواکیہ اور آذربائیجان کو روسی توانائی کے وسائل درآمد کرنے پر کسی قسم کا تادیبی محصول یا مالیاتی قدغن برداشت نہیں کرنا پڑے گی۔ امریکی انتظامیہ نے اس فیصلے کو اپنے ملکی اور قومی مفادات کے عین مطابق قرار دیا ہے۔
یہ اقدام دراصل امریکی قانون ’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ کے تحت سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس ایکٹ کی دفعہ 115 کے تحت حاصل خصوصی صدارتی اختیارات کا استعمال کیا ہے، جس کی رو سے صدر کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ اگر کسی غیر ملکی ادارے یا ریاست پر تعزیرات نرم کرنا امریکی قومی مفاد کا تقاضا ہو تو وہ کانگریس کو تحریری سرٹیفکیٹ پیش کر کے چھوٹ جاری کر سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ضروری تحریری دستاویزات امریکی پارلیمنٹ کو ارسال کر دی ہیں تاکہ توانائی منڈی میں عدم استحکام پیدا نہ ہو۔
واضح رہے کہ امریکی سینیٹ نے اگست کے مہینے میں 11 کے مقابلے میں 86 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے اس سخت قانون کی منظوری دی تھی، جس پر صدر ٹرمپ نے 18 ستمبر کو دستخط کیے تھے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد روس اور ایران سے بڑے پیمانے پر خام تیل خریدنے والی معیشتوں پر 100 سے 500 فیصد تک کا سخت درآمدی محصول نافذ کر کے دباؤ بڑھانا تھا۔ تاہم صدارتی چھوٹ نے ان پانچوں ممالک کو اس دائرہ کار سے عملی طور پر باہر نکال دیا ہے، جس سے بین الاقوامی توانائی مارکیٹ نے سکھ کا سانس لیا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین اس پیش رفت کو یوکرین تنازع اور واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کے ایک نئے رخ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک طرف ڈونالڈ ٹرمپ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی پالیسیوں اور امریکی مالیاتی مدد پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں، تو دوسری جانب ماسکو کے تئیں ان کا رویہ زیادہ معتدل اور تجارتی مفادات پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ تیل کی سپلائی چین پر قدغن نہ لگانے کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور مہنگائی کی نئی لہر سے بچنے کے لیے عملیت پسندی کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔
ہندوستان کے تناظر میں یہ اقدام غیر معمولی معاشی اور سفارتی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک ہونے کے ناطے، ہندوستان کو روس سے رعایتی قیمتوں پر توانائی کا بڑا حصہ حاصل ہوتا رہا ہے۔




