یوپی: کانوڑیوں کے مبینہ تشدد کا شکار مسلم نوجوان دم توڑ گیا، مقتول پر ہی اقدام قتل کا مقدمہ درج

اتر پردیش کے ضلع ہاپوڑ میں ایک معمولی سڑک حادثے کے بعد کانوڑیوں کے ایک گروپ کے مبینہ تشدد کا شکار ہونے والے 24 سالہ مسلم نوجوان عظیم دہلی کے ایک اسپتال میں دم توڑ گئے ہیں۔ اس واقعے نے اس وقت ایک نیا رخ اختیار کر لیا جب مقامی پولیس نے مقتول نوجوان کے خلاف ہی اقدام قتل کا مقدمہ درج کر لیا، جبکہ تشدد میں ملوث کسی بھی ملزم کی تاحال گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ 31 جولائی کو ہاپوڑ کے برج گھاٹ ٹول پلازہ کے قریب شیوا ڈھابے کے پاس پیش آیا تھا۔ مرادآباد کے رہائشی عظیم روزگار کے سلسلے میں اپنا منی ٹرک لے کر دہلی جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی سڑک کنارے کھڑے ایک آٹو رکشہ سے ٹکرا گئی جس میں کچھ کانوڑ یاتری سوار تھے۔ حادثے کے فوراً بعد آٹو ڈرائیور اور اس میں سوار افراد نے عظیم کو بے دردی سے پیٹنا شروع کر دیا۔ شدید چوٹوں کی وجہ سے عظیم کوما میں چلے گئے اور گڑھ مکتیشور، میرٹھ اور پھر دہلی کے اسپتالوں میں زیر علاج رہنے کے بعد 4 اگست کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ عظیم اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے اور پسماندگان میں ایک بیوی، نومولود بچہ اور ایک سال سے بستر پر پڑے بیمار والد شامل ہیں۔

اس معاملے میں گڑھ مکتیشور تھانے میں دو مختلف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ پہلی ایف آئی آر 31 جولائی کو مقتول کے والد انتظار کی مدعیت میں درج ہوئی، جس میں آٹو ڈرائیور فرمان سمیت کانوڑ یاتریوں انکت، لوکیش، منیش، شوم اور دو نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا۔ ان پر اقدام قتل، فساد برپا کرنے اور جان بوجھ کر چوٹ پہنچانے کی دفعات لگائی گئیں۔ تاہم، حیران کن طور پر 3 اگست کو آٹو ڈرائیور فرمان کے والد عمران کی شکایت پر کوما میں پڑے عظیم کے خلاف ہی اقدام قتل کی دوسری ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

دوسری ایف آئی آر کے مطابق، شکایت کنندہ عمران نے الزام لگایا ہے کہ عظیم نے مبینہ طور پر جان بوجھ کر ان کے 19 سالہ بیٹے فرمان کو ٹکر ماری اور پھر اس کے اوپر گاڑی چڑھا دی، جس سے فرمان کو بھی شدید چوٹیں آئیں اور وہ دہلی کے ایمس ٹراما سینٹر میں زیر علاج ہے۔ اس کراس ایف آئی آر نے مقامی پولیس کی تفتیش پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کس طرح ایک حادثے کے بعد تشدد کا شکار ہونے والے اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا شخص کو ہی سنگین جرائم میں ملزم ٹھہرا دیا گیا۔

گڑھ مکتیشور تھانے کے ایس ایچ او کے مطابق معاملے کی تفتیش جاری ہے لیکن اب تک کسی بھی فریق سے کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ مقتول عظیم کے والد نے پولیس کی کارروائی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے صرف انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے اس واقعے نے ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے کہ کس طرح ایک حادثہ یکطرفہ ہجومی تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اعلیٰ حکام اس معاملے میں غیر جانبدارانہ تفتیش کو یقینی بناتے ہوئے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے میں کیا قدم اٹھاتے ہیں۔

شیئر کریں۔