یوپی میں مسلم نوجوان کو بچھڑے کے آگے سجدہ کرنے کو مجبور کیا گیا: ویڈیو وائرل

بارہ بنکی: اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی سے ایک انتہائی افسوسناک اور انسانیت کو شرمسار کرنے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک مبینہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں چند خود ساختہ اور نام نہاد گئو رکشکوں پر ایک مسلم نوجوان کو زبردستی ایک بچھڑے کے سامنے جھکانے، اس کے ساتھ شدید بدزبانی کرنے اور اسے وحشیانہ دھمکیاں دینے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد مسلم تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اپوزیشن رہنماؤں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قصورواروں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دستاب رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بارہ بنکی کے ایک مقامی علاقے میں پیش آیا جہاں خود ساختہ گئو رکشکوں کے ایک ٹولے نے مسلم نوجوان کو راستے میں روکا۔ ان افراد نے نوجوان پر گائے کے متعلق مبینہ طور پر قابلِ اعتراض تبصرہ کرنے کا الزام لگایا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے موقع پر ہی سزا دینا شروع کر دی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان مسلسل معذرت کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود مشتعل افراد نے اس کی ایک نہ سنی، اس کے ساتھ گالی گلوج کی اور اسے بچھڑے کے سامنے سجدہ کرنے اور جھکنے پر مجبور کیا۔ یہی نہیں بلکہ ان افراد نے نوجوان کے والد کو بھی فون کر کے شدید نازیبا زبان استعمال کی اور خاندان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔

یہ واقعہ مسلم برادری کے لیے گہری تشویش اور صدمے کا باعث بنا ہے کیونکہ اسلامی عقائد کے مطابق سجدہ صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ مقامی مسلم رہنماؤں اور علمائے کرام نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک شہری پر جسمانی تشدد یا تذلیل کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مسلمان کے مذہبی جذبات اور بنیادی عقیدے پر براہِ راست حملہ ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ آئینِ ہند ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے اور جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، لیکن یوپی میں بعض عناصر قانون اور آئین سے بالاتر ہو کر کام کر رہے ہیں۔

اس شرمناک واقعے پر سیاسی حلقوں سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن سید ناصر حسین نے معاملے کی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خود ساختہ گروہ کو سڑکوں پر عدالت لگانے اور کسی شہری کو عوامی طور پر رسوا کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نوجوان پر کوئی الزام تھا بھی، تو اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف پولیس اور عدالتوں کو ہے، کسی ہجوم یا تنظیم کو نہیں۔ قانونی ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے واقعات ملک میں قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصے اور بارہ بنکی پولیس کو مسلسل ٹیگ کیے جانے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی ہے۔ بارہ بنکی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے دفتر کے ایک نمائندے نے تصدیق کی ہے کہ محکمہ نے وائرل ویڈیو کا نوٹس لے لیا ہے، تاہم ابھی تک اس سلسلے میں متاثرہ خاندان یا کسی دوسرے فریق کی جانب سے کوئی باضابطہ تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی صداقت، اس کے وقت اور پس منظر کی گہرائی سے جانچ کی جا رہی ہے اور ملوث افراد کی شناخت ہوتے ہی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس دوران علاقے میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے سول سوسائٹی نے امن و امان برقرار رکھنے اور ملزمین کی فوری گرفتاری کی اپیل کی ہے۔

شیئر کریں۔