چھ سال سے زائد جیل میں قید: عمر خالد اور شرجیل امام کی دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں پٹیشن

شمال مشرقی دہلی میں سال 2020 کے دوران پیش آنے والے فسادات کی مبینہ سازش کے مقدمے میں نامزد سرکردہ نوجوان کارکنان عمر خالد اور شرجیل امام نے ضمانت کے لیے سپریم کورٹ آف انڈیا کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ دونوں کارکنان نے دہلی ہائی کورٹ کے 30 ستمبر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں ان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔ دونوں ملزمان گزشتہ چھ برسوں سے زائد عرصے سے سخت گیر انسدادِ دہشت گردی قانون (یو اے پی اے) کے تحت تہاڑ جیل میں بطور انڈر ٹرائل قید ہیں جبکہ اس سنگین نوعیت کے مقدمے میں اب تک ٹرائل کا باقاعدہ آغاز بھی نہیں ہو سکا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ حکم میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ عدالتی ضابطوں کی پابند ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے 5 جنوری کے حکم نامے میں طے کی گئی شرائط میں کوئی رد و بدل نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ نے رواں برس کے آغاز میں دیگر ملزمان بشمول گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے الگ کر دیا تھا کہ ان پر عائد الزامات کی نوعیت دیگر ملزمان سے مختلف ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس وقت شرط رکھی تھی کہ دونوں ملزمان 47 تحفظ یافتہ گواہوں کے بیانات مکمل ہونے کے بعد یا ایک سال کا عرصہ گزرنے پر ہی دوبارہ ضمانت کی استدعا کر سکتے ہیں۔

شرجیل امام نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپنی نئی پٹیشن میں عدالتی توجہ اس حقیقت کی جانب مبذول کرائی ہے کہ چھ سال اور نو ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے کاٹنے کے باوجود استغاثہ اب تک 47 میں سے ایک بھی محفوظ گواہ کا بیان عدالت میں درج نہیں کرا سکا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق جب تفتیشی ایجنسیاں اور استغاثہ گواہوں کو پیش کرنے میں اس قدر تاخیر کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو ایک سال کے اندر گواہیوں کی تکمیل کی شرط کا پورا ہونا عملی طور پر ناممکن ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو غیر معینہ مدت کے لیے آئینی حقوق سے محروم رکھ کر قیدِ تنہائی میں دھکیلا جا رہا ہے۔

عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر نوجوانوں کو سال 2020 کے اوائل اور اواخر میں متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کے خلاف ملک گیر پرامن جمہوری مظاہروں کی قیادت کرنے کے پس منظر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ تصادم کے نتیجے میں 53 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جن میں بھاری اکثریت مسلمانوں کی تھی جبکہ سینکڑوں افراد زخمی اور بے گھر ہوئے۔ دہلی پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ تمام تر تشدد مرکز کی نریندر مودی حکومت کو بدنام کرنے کی ایک سوچی سمجھی عالمی سازش کا حصہ تھا، جس کی منصوبہ بندی سی اے اے مخالف مظاہرین نے کی تھی۔

قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے ملزمان پر لگائے گئے یو اے پی اے، آرمز ایکٹ اور پبلک پراپرٹی کے نقصانات سے متعلق قوانین کے بے جا استعمال پر بارہا سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہی ایک بنچ نے رواں سال 18 مئی کو تاریخی اصول دہراتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کے تحت بھی ضمانت ایک بنیادی ضابطہ اور جیل محض ایک استثنا ہے، اور ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر بذاتِ خود شہری کی آزادی چھیننے کے مترادف ہے۔

آئینِ ہند کے تحت حاصل بنیادی حقوق اور شفاف ٹرائل کی ضمانتیں ہر شہری کے لیے مساوی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب نظامِ عدل میں برسوں تک شواہد اور گواہیاں شروع نہ ہو سکیں تو یہ صورتحال نہ صرف انڈر ٹرائل قیدیوں کے بنیادی انسانی وقار کو مجروح کرتی ہے بلکہ جمہوری نظام کے انصاف فراہم کرنے والے اداروں کے مجموعی اعتبار کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ کی جانب سے اس پٹیشن پر سماعت ملک بھر میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی طویل حراست اور ریاستی قوانین کے اطلاق سے متعلق قانونی تاریخ میں انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوگی۔

شیئر کریں۔