سپریم کورٹ کی سخت سرزنش کے باوجود کڑکڑڈوما کورٹ کا سخت رخ،عمر خالد کی عبوری ضمانت پھر مسترد

دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے مبینہ سازش کے کیس میں طویل عرصے سے جیل میں بند جے این یو کے سابق طالب علم اور سماجی کارکن عمر خالد کو ایک بڑا جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے عمر خالد کی جانب سے اپنے مرحوم ماموں کے چہلم میں شرکت اور اپنی بیمار والدہ کی سرجری کے پیش نظر دیکھ بھال کے لیے دائر کی گئی 15 روزہ عبوری ضمانت کی درخواست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر واجپئی نے اس معاملے پر سماعت کرتے ہوئے واضح کیا کہ درخواست میں پیش کی گئی وجوہات عبوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے قانونی طور پر کافی نہیں ہیں۔

عدالتی کارروائی کے دوران عمر خالد کے وکیل نے دلیل دی تھی کہ وہ اپنے خاندان کے اکلوتے بیٹے ہیں اور ان کی والدہ کی ایک اہم سرجری ہونی ہے۔ دفاعی فریق کی جانب سے کہا گیا کہ عمر خالد کے والد کی عمر 71 سال ہو چکی ہے جس کی وجہ سے وہ اکیلے دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ ان کی پانچ بہنوں میں سے چار شادی شدہ ہیں اور اپنے سسرال میں مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ ماموں کے انتقال کے بعد چہلم کی مہم رسومات میں شرکت کے لیے بھی ان کی موجودگی خاندانی طور پر ضروری ہے۔ تاہم استغاثہ نے ان تمام دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ سرجری محض ایک گانٹھ کو ہٹانے کا عام طریقہ کار ہے جس کے لیے ملزم کی ذاتی موجودگی لازمی نہیں ہے۔

کڑکڑڈوما کورٹ نے استغاثہ کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ اگر مرحوم ماموں کے ساتھ رشتہ اتنا ہی گہرا تھا تو عمر خالد کو ان کے انتقال کے وقت ہی ضمانت کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا، اتنے طویل عرصے بعد چہلم کی بنیاد پر ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ والدہ کی صحت کے حوالے سے عدالت نے تبصرہ کیا کہ خاندان میں دیگر بہنیں اور والد موجود ہیں جو دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ماضی میں عبوری ضمانت ملنے اور شرائط کی خلاف ورزی نہ کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہر بار مانگی گئی عبوری ضمانت کو لازمی طور پر منظور کر لیا جائے۔

یہ عدالتی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محض ایک دن قبل ملک کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی سپریم کورٹ نے ٹرائل شروع ہونے سے قبل ملزمان کو طویل عرصے تک سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے سخت تبصرے میں عمر خالد اور گلفشاں فاطمہ جیسی شخصیات کو ضمانت نہ دیے جانے کے فیصلوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور قانونی ماہرین کی جانب سے بھی مسلسل یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بغیر ٹرائل کے کسی بھی شہری کو برسوں تک قید رکھنا بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، لیکن نچلی عدالتوں کا سخت رویہ اب بھی برقرار ہے۔

عمر خالد کو سال 2020 کے دلی فسادات کے بعد سخت ترین قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ کئی سالوں سے عدالتی کارروائی کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔ مسلم کمیونٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس کیس کو مسلسل سیاسی انتقام اور دباؤ کے تحت کی جانے والی کارروائی کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، جہاں ضمانت جیسے بنیادی حق کو بھی ایک طویل قانونی جنگ بنا دیا گیا ہے۔ کڑکڑڈوما کورٹ کے اس تازہ فیصلے کے بعد اب عمر خالد کی قانونی ٹیم اس فیصلے کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے اختیارات پر غور کر رہی ہے تاکہ بیمار والدہ کی دیکھ بھال کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عبوری ریلیف حاصل کیا جا سکے۔

شیئر کریں۔