اُڈپی (فکروخبر نیوز) ساحلی کرناٹک کے ضلع اُڈپی میں سائبر جرائم کا ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں 66 سالہ ایک خاتون کو ممبئی پولیس کا فرضی افسر بن کر 65 لاکھ روپے سے محروم کر دیا گیا۔ ملزمان نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری کا خوف دکھا کر کئی دنوں تک خاتون کو ذہنی دباؤ میں رکھا اور بالآخر بڑی رقم مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کروانے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اُڈپی کی رہائشی شیلا کو 13 جولائی کو واٹس ایپ کے ذریعے ایک نامعلوم نمبر سے رابطہ کیا گیا۔ بعد ازاں ویڈیو کال پر ایک شخص پولیس کی وردی میں نمودار ہوا اور خود کو ممبئی کے کولابا پولیس اسٹیشن کا انسپکٹر ظاہر کیا۔ اس نے خاتون کو بتایا کہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں مبینہ طور پر 20 کروڑ روپے کی مشتبہ رقم منتقل ہوئی ہے اور وہ منی لانڈرنگ کے ایک سنگین مقدمے میں زیرِ تفتیش ہیں۔
دھوکہ باز نے مزید دعویٰ کیا کہ خاتون کے خلاف وارنٹ جاری ہو چکا ہے اور منگلورو پولیس کسی بھی وقت انہیں گرفتار کر سکتی ہے۔ اچانک پیش آنے والی اس صورتحال سے خوفزدہ خاتون نے اپنی بینک تفصیلات اور دیگر دستاویزات کی تصاویر ملزم کو فراہم کر دیں۔ بعد ازاں ملزمان نے اکاؤنٹس کی جانچ اور نام صاف کرنے کے بہانے مختلف بینک کھاتوں میں رقم منتقل کرنے کی ہدایت دی۔
اطلاعات کے مطابق 13 جولائی سے 17 جولائی کے درمیان خاتون نے مجموعی طور پر 65 لاکھ روپے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے۔ بعد میں جب انہیں دھوکہ دہی کا احساس ہوا تو انہوں نے فوری طور پر اُڈپی کے سی ای این (Cyber, Economic and Narcotics) پولیس اسٹیشن سے رجوع کیا۔
پولیس نے شکایت کی بنیاد پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66(D) اور بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خود کو پولیس، سی بی آئی، ای ڈی یا کسی سرکاری ادارے کا افسر ظاہر کرنے والے نامعلوم افراد کے فون یا ویڈیو کالز پر ہرگز اعتماد نہ کریں اور کسی بھی صورت میں اپنی بینک معلومات یا رقم کسی اجنبی کے حوالے نہ کریں۔




