بنگلورو: کرناٹک میں جاری خشک سالی کے پیشِ نظر ریاستی حکومت نے ریاست کے مزید 23 تعلقہ جات کو قحط زدہ قرار دے دیا ہے۔ اس نئے حکم نامے کے بعد ریاست میں قحط زدہ تعلقہ جات کی کل تعداد بڑھ کر 124 ہو گئی ہے۔
محکمہ محصولات (ڈیزاسٹر مینجمنٹ) نے جمعرات کے روز ’کرناٹک اسٹیٹ نیچرل ڈیزاسٹر مانیٹرنگ سینٹر‘ (KSNDMC) کی سائنسی رپورٹ اور زمینی جائزوں کی بنیاد پر یہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ اس سے قبل حکومت نے پہلے مرحلے میں 27 اگست کو 101 تعلقہ جات کو قحط زدہ قرار دیا تھا۔ تاہم، ریاست کے متعدد علاقوں میں مسلسل بارش نہ ہونے کی وجہ سے باقی 139 تعلقہ جات کی صورتحال کا سائنسی جائزہ لیا گیا۔
نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور کی سربراہی میں قائم قدرتی آفات کی کابینہ سب کمیٹی کی ہدایت پر 24 تعلقہ جات کے 214 دیہاتوں میں موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے گراؤنڈ ٹروتھنگ کی گئی۔ اس جانچ کے بعد جاری کی گئی نئی فہرست میں 21 تعلقہ جات کو شدید قحط زدہ اور 2 تعلقہ جات کو درمیانے درجہ کے قحط زدہ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ یہ اعلان فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اگلے چھ ماہ تک برقرار رہے گا۔
شدید قحط زدہ قرار دیے گئے 21 تعلقہ جات میں تپٹور (تمکورو)، کارٹاگی (کوپل)، مانوی، سندھنور اور سروار (رائے چور)، افضل پور، الند، چتاپور، گلبرگہ، ید رامی اور شاہ آباد (گلبرگہ)، بھالکی (بیدر)، بسوانا باگیواڑی، بابلیشور اور ٹیکوٹا (بیجاپور)، رٹی ہلی (ہاویری)، ہبلی، نولگند، ہبلی سٹی اور انیگیری (دھارواڑ) اور کدور (چکمگلورو) شامل ہیں۔ جبکہ کوڈاگو ضلع کے پونامپیٹ اور ویراج پیٹ کو معتدل قحط زدہ قرار دیا گیا ہے۔
حکومت نے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (SDRF) کے رہنما خطوط کے تحت فوری امدادی اقدامات شروع کریں۔ نیز محکمہ زراعت، باغبانی اور اضلاع کے سربرہان کو فصلوں کے نقصان کا مشترکہ سروے کر کے جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ستمبر میں بھی معمول سے کم بارش کا امکان ہے، جس کے مدنظر KSNDMC ہفتہ وار صورتحال کا جائزہ لیتا رہے گا۔




