دھارواڑ (فکروخبرنیوز) کرناٹک میں بدعنوانی کے خلاف لوک آیوکتہ پولیس نے ایک بڑی کارروائی انجام دی ہے جس کے تحت دھارواڑ کے تحصیلدار سچیدانند کوچنور کو بدھ کی دیر رات 50 لاکھ روپے کی بھاری رقم بطَورِ رشوت قبول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ لوک آیوکتہ کی ٹیم نے یہ چھاپہ مار کارروائی رات تقریباً 9:30 بجے انجام دی، جس کے بعد ملزم افسر کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے اسے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
لوکایوکت پولیس کے ذرائع سے موصولہ تفصیلات کے مطابق، شکایت کنندہ کے پاس کل 33 ایکڑ زمین ہے، جس میں سے وہ 13 ایکڑ زمین کو غیر زرعی (Non-Agricultural) قرار دلوانا چاہتا تھا تاکہ وہاں ایک رہائشی لے آؤٹ تعمیر کیا جا سکے۔ اس منظوری کو حاصل کرنے کے لیے جب زمین کے مالک نے تحصیل دفتر سے رجوع کیا تو تحصیلدار سچیدانند نے اس کام کے عوض 1 کروڑ روپے نقد اور ایک ایکڑ زمین اپنے نام کرنے کا مطالبات رکھا۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے زمین کے مالک نے اس کی اطلاع لوک آیوکتہ پولیس کو دی۔ لوک آیوکتہ کی ٹیم نے مکمل منصوبہ بندی کے تحت جال بچھایا اور جیسے ہی تحصیلدار نے طے شدہ پہلی قسط کے طور پر 50 لاکھ روپے نقد وصول کیے، پولیس اہلکاروں نے موقع پر ہی ریڈ مار کر اسے گرفتار کر لیا۔ کرناٹک میں حالیہ دنوں کے دوران لوک آیوکتہ کی جانب سے کی جانے والی یہ سب سے بڑی اور اہم کارروائیوں میں سے ایک مانگی جا رہی ہے۔




