متحدہ عرب امارات :براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر تابکاری کی سطح معمول پر, دہشت گردی کا جواب دینے کا حق محفوظ: یو اے ای

متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کا تشویشناک واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں پلانٹ کے ایک بیرونی جنریٹر میں آگ لگ گئی۔ تاہم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے فوری طور پر جاری ہونے والے بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ اس حملے کے باوجود پلانٹ کے اندر اور اردگرد تابکاری کی سطح مکمل طور پر معمول پر ہے اور واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اس واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات کی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ یو اے ای کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے ہنگامی رابطہ کر کے صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ نے اس موقع پر دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ان کا ملک اس نوعیت کے دہشت گردانہ حملوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ قومی سلامتی اور حساس تنصیبات کے تحفظ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ متحدہ عرب امارات کے توانائی کے بڑے اور اہم ترین منصوبوں میں سے ایک ہے اور اسے خطے میں صاف توانائی کے حصول کا ایک محفوظ مرکز سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی ایٹمی تنصیب پر اس طرح کا حملہ عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جنریٹر میں لگنے والی آگ پر بروقت اور کامیابی کے ساتھ قابو پا لیا گیا ہے جس سے کوئی بڑا مالی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس ڈرون حملے کی ذمہ داری تاحال کسی بھی تنظیم یا گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔ حکام نے اس واقعے کی جامع تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ ڈرون کی اصل سمت اور اس کارروائی کے پس پردہ عناصر کا سراغ لگایا جا سکے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے جوابی کارروائی کے سخت انتباہ کے بعد خطے میں سکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے۔ عالمی برادری بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ حساس جوہری تنصیبات کے قریب تخریب کاری بین الاقوامی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

شیئر کریں۔