اتر پردیش کے غازی آباد میں مزید دو مدارس کو انتظامیہ نے کیا سیل، ‘غیر قانونی’ قرار دے کر کارروائی

اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں مسلم اقلیتی تعلیمی اور مذہبی اداروں کے خلاف مقامی انتظامیہ کی جانب سے سخت کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل تیز ہوتا جا رہا ہے۔ ایک نئی اور تشویش ناک پیش رفت کے تحت ضلع انتظامیہ نے سنیچر چھ جون کو اندرا پورم اور لونی کے علاقوں میں قائم مزید دو مدارس کو مبینہ طور پر ‘غیر قانونی’ قرار دیتے ہوئے انہیں مکمل طور پر سیل کر دیا۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی اچانک کیے گئے معائنے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے، جہاں رجسٹریشن کی عدم موجودگی اور سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پائے جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یوپی میں یکے بعد دیگرے مدارس کو نشانہ بنائے جانے کے ان واقعات نے اقلیتی برادری، خاص طور پر مسلم رہنماؤں اور تعلیمی ماہرین کے اندر شدید بے چینی، مایوسی اور خوف کی لہر پیدا کر دی ہے۔

ضلع اقلیتی بہبود افسر کیلاش چندر تیواری کی جانب سے جاری کردہ سرکاری حکم نامے کے مطابق، اندرا پورم کے کاناوانی علاقے میں واقع مدرسہ اقلیتی بہبود کے محکمے کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھا اور نہ ہی انتظامیہ کے پاس اس کا کوئی قانونی سرٹیفکیٹ موجود تھا۔ اس سلسلے میں وقف محکمے، میونسپل کارپوریشن اور ریونیو ڈپارٹمنٹ کے افسران پر مشتمل ایک مشترکہ معائنہ ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ اس ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مسلم ادارہ فائر اور الیکٹریکل سیفٹی محکموں سے لازمی این او سی (No-Objection Certificate) حاصل کیے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ مزید برآں، انتظامیہ نے عمارت میں صفائی ستھرائی کے انتظامات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور الزام لگایا کہ قواعد کے خلاف وہاں ایک ہاسٹل چلایا جا رہا تھا، جہاں مقیم بچوں کے حالات زندگی اور تحفظ کے حوالے سے خدشات تھے۔

انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے کاناوانی مدرسے کی مرکزی عمارت کو فوری طور پر سیل کر دیا ہے اور وہاں کے انتظامی امور کو مکمل طور پر معطل کر دیا ہے۔ مدرسہ انتظامیہ کو اپنے دفاع اور تمام قانونی دستاویزات پیش کرنے کے لیے صرف ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (سٹی) دھول جائیسوال نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس اس پورے معاملے کی قانونی زاویوں سے جانچ کر رہی ہے اور اگر تحقیقات کے دوران مزید خلاف ورزیاں سامنے آئیں تو مدرسہ انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر (FIR) بھی درج کی جائے گی۔ اس اچانک کارروائی کے وقت ہاسٹل میں مقیم چند بچوں کو فوری طور پر ان کے گھروں کو واپس بھیج دیا گیا، جبکہ بقیہ بچوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری کارروائی غازی آباد کے لونی علاقے کے اشوک ویہار میں واقع ‘مدرسہ اسلامیہ کاشف العلوم’ کے خلاف کی گئی، جہاں بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں ادارے کو سیل کر دیا گیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ مدرسہ سرکاری منظوری اور باضابطہ تسلیم کیے بغیر کام کر رہا تھا۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل ستمبر میں مدرسہ انتظامیہ کو ایک نوٹس بھیج کر وضاحت طلب کی گئی تھی، لیکن ان کی جانب سے کوئی اطمینان بخش جواب موصول نہیں ہوا۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (رورل) سریندر ناتھ تیواری نے تصدیق کی ہے کہ متعلقہ محکموں کی رپورٹس کی بنیاد پر مدرسے کو مقفل کرنے کا یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

غازی آباد میں مسلم تعلیمی اداروں کے خلاف اس اچانک اور سخت ترین کریک ڈاؤن کو گزشتہ دنوں پیش آنے والے ایک مجرمانہ واقعے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ کھوڑا کے نونیت ویہار کے رہنے والے 17 سالہ سوریا چوہان کو 28 مئی کو اس کے دوست اسد نے مبینہ طور پر چاقو مار کر قتل کر دیا تھا، جس کے بعد یوپی پولیس نے ایک مبینہ انکاؤنٹر میں اسد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پورے ضلع میں فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششوں کے درمیان انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیرات اور غیر تسلیم شدہ مسلم اداروں کے خلاف مہم کو تیز کر دیا۔ اسی ہفتے کھوڑا علاقے میں بھی دو مدارس کو سیل کیا گیا تھا، جبکہ 3 جون کو مسوری کے علاقے میں ایک مدرسے کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا گیا تھا۔ اقلیتی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ کسی ایک مجرمانہ واقعے کی آڑ میں پوری برادری کے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا اور غریب بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانا کسی بھی طرح منصفانہ عمل نہیں ہے۔

شیئر کریں۔