بھٹکل: مجلس اصلاح و تنظیم کے انتخابات 12 مئی کو؛ 15 اراکین بلامقابلہ منتخب، 9 حلقوں میں سخت مقابلہ

بھٹکل (فکروخبرنیوز) بھٹکل کے سو سالہ قدیم اور باوقار ادارے ‘مجلس اصلاح و تنظیم’ کے آئندہ تین سالہ میعاد کے لیے انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ 12 مئی کو ہونے والے ان انتخابات میں اس بار بڑے پیمانے پر تبدیلی کی لہر محسوس کی جا رہی ہے، جہاں قوی امکان ہے کہ نئی انتظامیہ میں 50 فیصد سے زائد نئے چہرے شامل ہوں گے۔

الیکشن کمشنر محی الدین الطاف کھروری کے مطابق تنظیم کے کل 16 حلقوں میں سے 7 حلقوں (حلقہ نمبر 3، 4، 5، 6، 8، 11 اور 15) سے 15 اراکین بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ اب بقیہ 9 حلقوں میں 12 مئی کو پولنگ ہوگی، جس کے لیے امیدواروں نے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔

اس بار سب سے زیادہ توجہ حلقہ نمبر 14 پر مرکوز ہے، کارگیدے، شفا کالونی، ہاؤسنگ بورڈ، گول مسجد، ہورلی سال، مریم علی کالونی، مکہ کالونی اور مین روڈ کے علاقوں پر مشتمل اس حلقہ میں 232 ووٹرس موجود ہیں جہاں تنظیم کے موجودہ صدر عنایت اللہ شاہ بندری سمیت 10 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ یہاں سے صرف 5 اراکین کا انتخاب ہونا ہے۔ اسی طرح حلقہ نمبر 2 خلیفہ محلہ، صدیق اسٹریٹ، ڈونگرپلی اور ڈارنٹا علاقوں پر مشتمل اس حلقہ میں 246 ووٹروں کے ساتھ سب سے بڑا حلقہ بن کر ابھرا ہے، جہاں 6 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ حلقہ نمبر 13 (آزاد نگر) میں بھی 210 ووٹروں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے 6 امیدوار تگ و دو کر رہے ہیں۔

مجلس اصلاح و تنظیم کے الیکشن کمشنر محی الدین الطاف کھروری کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ادارے کے انتخابی عمل میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تنظیم کے کل 16 حلقوں سے مجموعی طور پر 45 اراکین کا انتخاب ہونا تھا، جس کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کی واپسی کی آخری تاریخ 5 مئی طے کی گئی تھی۔ اس عمل کے دوران کئی امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لیے، جس کے نتیجے میں سات حلقوں (حلقہ نمبر 3، 4، 5، 6، 8، 11 اور 15) کی صورتحال واضح ہو گئی ہے اور وہاں سے تمام 15 امیدوار بلامقابلہ منتخب قرار پائے ہیں۔

واضح رہے کہ ووٹنگ کا عمل منگل 12 مئی کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا، جس کے فوری بعد ووٹوں کی گنتی شروع کر دی جائے گی۔ انتخابی نتائج کا باضابطہ اعلان 14 مئی کو متوقع ہے۔

شیئر کریں۔