امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کا عبوری معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی حتمی منظوری کا انتظار

امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی اور فوجی تصادم کے بعد بالآخر ایک عبوری مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق ہو گیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان اگلے ساٹھ دنوں کے لیے جنگ بندی نافذ کی جائے گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس عارضی جنگ بندی کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کرنا ہے۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس سفارتی فریم ورک کو حتمی شکل دے دی گئی ہے تاہم اس پر باقاعدہ عمل درآمد کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری کا انتظار ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق اس عبوری معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو مکمل طور پر بحال کیا جائے گا اور ایران کو وہاں سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا۔ اس کے بدلے میں امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر قائم اپنے بحری محاصرے کو ختم کرے گا اور ایران پر عائد مخصوص پابندیوں میں نرمی کی جائے گی تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں تیل فروخت کر سکے۔

اس معاہدے کا ایک انتہائی اہم پہلو لبنان میں جاری اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہے جہاں دو مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں اور زمینی حملے کے نتیجے میں اب تک تین ہزار سے زائد بے گناہ شہری اور طبی امدادی کارکن شہید ہو چکے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرنے کا پابند ہوگا جس سے خطے میں جاری انسانی المیے اور معصوم شہریوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے میں مدد ملے گی۔ مسلم امہ اور عالمی برادری طویل عرصے سے لبنان میں جاری اس وحشیانہ بمباری کو روکنے کا مطالبہ کر رہی تھی اور یہ معاہدہ وہاں امن کے قیام کے لیے ایک بڑی امید بن کر سامنے آیا ہے۔

معاہدے کی شرائط کے مطابق ساٹھ دنوں کی اس مہلت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے پاس موجود ساٹھ فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مستقبل پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔ ایران ہمیشہ یہ موقف دہراتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام خالصتاً پرامن اور سویلین مقاصد کے لیے ہے تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی اس پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس عبوری دورانیے میں ایران کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کا ایک متبادل طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا جبکہ غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی پر بھی بات چیت ہوگی۔

اگرچہ سفارتی سطح پر یہ ایک بڑی پیش رفت ہے لیکن زمینی حقائق اب بھی کافی کشیدہ ہیں کیونکہ حال ہی میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بندر عباس میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ کویت کی فضائی حدود میں بھی مشتبہ ڈرونز اور میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا گیا۔ ان تمام فوجی چیلنجز کے باوجود دونوں ممالک کے سفارت کاروں کو امید ہے کہ صدر ٹرمپ کی منظوری کے بعد اس ساٹھ روزہ جنگ بندی سے خطے کو ایک بڑی اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے گا۔

شیئر کریں۔