’میرا نشانہ ہندوستان نہیں بلکہ پاکستان اور سعودی کے مسلمان تھے‘:مسلم خواتین پر نازیبا تبصرہ پر بی جے پی لیڈر ٹی راجہ سنگھ

حیدرآباد کے حلقہ گوشہ محل سے ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ ایک بار پھر اپنے انتہائی متنازعہ اور نازیبا بیان کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ مسلم خواتین کے خلاف نازیبا ریمارکس کرنے کے الزام میں حیدرآباد کی مھدی پٹنم پولیس کی جانب سے مقدمہ (ایف آئی آر) درج کیے جانے کے بعد، گوشہ محل کے ایم ایل اے نے اب پولیس اور اپنے مخالفین پر جم کر بھڑاس نکالی ہے۔ راجہ سنگھ نے حیدرآباد پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے محض "کچھ لوگوں” کے خوف اور دباؤ میں آکر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ انہوں نے اپنے وائرل انٹرویو پر عجیب و غریب صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یہ تبصرہ یہاں کے مسلمانوں کے لیے نہیں تھا، بلکہ وہ پاکستان اور سعودی عرب کے لوگوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل بی آر ایس (بھارت راشٹرا سمتی) کے لیڈر اور ایچ وائی سی (HYC) کے بانی سلمان خان نے مھدی پٹنم پولیس اسٹیشن میں راجہ سنگھ کے خلاف ایک باضابطہ شکایت درج کرائی تھی۔ یہ شکایت انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کلپ کی بنیاد پر کی گئی تھی، جس میں راجہ سنگھ کو مسلم خواتین کے حوالے سے انتہائی قابل اعتراض اور توہین آمیز گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔ وائرل کلپ میں راجہ سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پاکستان، دبئی اور سعودی عرب سے فون کالز آتی ہیں اور وہیں کے تناظر میں انہوں نے مسلم خواتین سے متعلق نازیبا جملے کہے تھے۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد مسلم برادری اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ دیکھا جا رہا تھا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔

اپنے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجہ سنگھ نے اپنے ناقدین کو کھلے عام چیلنج کیا۔ انہوں نے اشتعال انگیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مخالفین میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ان کا آمنے سامنے مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں آنے کے بعد سے انہوں نے مار پیٹ اور لڑائی جھگڑے چھوڑ دیے ہیں، ورنہ وہ پہلے مارتے تھے اور بات بعد میں کرتے تھے۔ راجہ سنگھ نے فون پر دھمکیاں دینے والوں کو بزدل قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب وہ باہر کے ملکوں میں بیٹھے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، تو ہندوستان اور بالخصوص حیدرآباد کے لوگوں کو اس پر کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔

ایم ایل اے نے حیدرآباد پولیس کی تفتیشی کارروائی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کیے۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا پولیس کوئی بھی ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے ویڈیو کی تصدیق یا جانچ پڑتال نہیں کرتی؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ویڈیو کلپ پرانی ہے اور یوٹیوب پر ان کی چار پانچ سال پرانی ویڈیوز کو اکثر لوگ دوبارہ اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے پولیس افسران سے سوال کیا کہ کیا اب ان لوگوں پر بھی مقدمات درج کیے جائیں گے جو پرانی ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر دوبارہ شیئر کرتے ہیں۔

حیدرآباد میں راجہ سنگھ کے اس نئے بیان اور پولیس کارروائی نے ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا دیا ہے۔ گوشہ محل کے ایم ایل اے طویل عرصے سے اپنے اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ماضی میں ان پر کئی مقدمات درج ہو چکے ہیں اور انہیں بی جے پی سے معطل بھی کیا گیا تھا۔ مھدی پٹنم پولیس کے مطابق، معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور قانون کے مطابق اگلی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ مقامی سماجی تنظیموں نے راجہ سنگھ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔

شیئر کریں۔