پیغمبر اسلام کے خلاف نازیبا تبصرہ : سپریم کورٹ کا فوری سماعت سے انکار، پولیس کارروائی اور قانونی نظام پر بھروسہ رکھنے کی ہدایت

ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل خانہ کے خلاف سوشل میڈیا پر کیے گئے مبینہ توہین آمیز اور نازیبا تبصروں کے معاملے میں دائر ایک مفاد عامہ کی درخواست پر فوری سماعت کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات میں براہ راست سپریم کورٹ آنے کے بجائے قانون کے دائرے میں موجود نچلے اداروں اور پولیس انتظامیہ سے رجوع کیا جانا چاہیے، اور شہریوں کو ملک کے باقاعدہ قانونی نظام پر اعتماد رکھنا چاہیے۔

یہ معاملہ جسٹس احسان الدین امان اللہ اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل دو رکنی بنچ کے سامنے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ انصار احمد چودھری کی طرف سے دائر کردہ درخواست کے ذریعے پیش کیا گیا تھا۔ عدالت میں بحث کے دوران وکیل رجت کمار نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کی جانب سے جون کے مہینے میں ایک آن لائن پوڈ کاسٹ کے دوران انتہائی قابل اعتراض اور گستاخانہ کلمات کہے گئے، جن کے ویڈیو کلپس مسلسل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات سے ملک کے اندر مختلف برادریوں کے مابین قائم رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی شدید طور پر متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے اس پر فوری عدالتی مداخلت ناگزیر ہے۔

سپریم کورٹ کی بنچ نے ان دلائل کو سننے کے بعد درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اس گھناؤنے اقدام کے خلاف متعلقہ تھانوں میں باقاعدہ مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔ وکیل کے مثبت جواب پر بنچ نے ریمارکس دیے کہ جب پولیس قانون کے مطابق موجود ہے اور کارروائی کر رہی ہے تو نظام کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے اور اس پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ عدالت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سپریم کورٹ کا اصل کام نگرانی کرنا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ نچلے درجے کے اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے نبھا رہے ہیں یا نہیں۔ معزز ججوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ اگر معمول کے طریقہ کار کے مطابق پولیس کی جانب سے مناسب اور تسلی بخش قانونی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے، تب ہی اس معاملے کو دوبارہ اعلیٰ عدالت کے سامنے اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بنچ نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس اور مذہبی معاملات کو سنسنی خیز بنانے کی کوششوں سے ہر ممکن پرہیز کیا جانا چاہیے۔

اس اہم آئینی درخواست میں عدالت عظمیٰ سے یہ بھی اپیل کی گئی تھی کہ وہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس طرح کے نفرت انگیز، توہین آمیز اور اشتعال انگیز مواد کی اشاعت اور تشہیر کو مستقل طور پر روکنے اور اسے ریگولیٹ کرنے کے لیے جامع رہنما خطوط یا سخت قوانین وضع کرے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر مقدس مذہبی شخصیات بشمول پیغمبر اسلام اور ہندو برادری کے قابل احترام بھگوان شری رام کی توہین کر کے ملک کا امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ درخواست میں متعلقہ سرکاری حکام کو یہ ہدایات دینے کی بھی استدعا کی گئی تھی کہ وہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور معاشرے میں دشمنی کو فروغ دینے کے لیے آن لائن ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر انتظامی اقدامات کریں۔

مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے تناظر میں یہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے نفرت انگیز بیانات اور توہین آمیز مہمات سے اقلیتی برادری بالخصوص مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ نے اگرچہ فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے، لیکن عدالت کا یہ موقف کہ پولیس کارروائی میں ناکامی کی صورت میں وہ مداخلت کرے گی، درخواست گزاروں کے لیے ایک قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی کڑی کے طور پر متعلقہ ریاستوں کی پولیس کی جانب سے درج کردہ ایف آئی آرز پر کی جانے والی تفتیش اور مجرم کی گرفتاری جیسے اقدامات پر نظر رہے گی، جس کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ آئندہ دنوں میں یہ معاملہ دوبارہ سپریم کورٹ پہنچتا ہے یا نہیں۔

شیئر کریں۔