سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ پسماندہ طبقات، انتہائی پسماندہ طبقات، ڈی نوٹیفائیڈ طبقات یا درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اگر اسلام قبول کرتے ہیں تو وہ خودکار طور پر بیکورڈ کلاس (مسلم) زمرے کے تحت ریزرویشن کے حقدار نہیں ہوں گے۔ عدالتِ عظمیٰ نے مدراس ہائی کورٹ کے اس سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا جس میں ریاست تمل ناڈو میں مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہونے والے افراد کو مسلم پسماندہ طبقے کا درجہ دینے والے حکومتی حکم کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔
عدالت نے اپنے تفصیلی مشاہدے میں کہا کہ کسی دوسرے سماجی یا مذہبی پس منظر سے اسلام میں داخل ہونے والا شخص ریاستی فہرست میں شامل سات نوٹیفائیڈ مسلم پسماندہ سماجی برادریوں کا رکن خود بخود نہیں بن جاتا۔ بنچ نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ کسی شہری کی پیدائشی یا سابقہ ذات کی بنیاد پر حاصل مراعات کو براہ راست مسلم پسماندہ طبقات کے زمرے میں منتقل نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی کوئی نجی مذہبی ادارہ یا انجمن اس طرح کے سماجی و قانونی استحقاق کا حتمی فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔
یہ تنازع تمل ناڈو حکومت کے اس حکم نامے کے بعد عدالت پہنچا تھا جس کے تحت مذہب بدل کر اسلام قبول کرنے والے افراد کو بی سی مسلم زمرے میں شمولیت کا راستہ دیا گیا تھا۔ مدراس ہائی کورٹ نے 24 جون کو اس حکومتی نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا، جس کے بعد ریاستی حکومت نے جولائی میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی اپیل کو رد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے پر توثیق کی مہر ثبت کر دی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں مذہب تبدیلی اور مثبت امتیازی سلوک سے متعلق جاری وسیع تر قانونی بحث کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل رواں برس 24 مارچ کو بھی سپریم کورٹ نے 1950 کے آئینی شیڈولڈ کاسٹ آرڈر کے کلاز 3 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ درج فہرست ذات کا درجہ صرف ہندو، بدھ مت اور سکھ مذہب کے پیروکاروں تک محدود ہے۔ عدالت نے اس وقت بھی یہ واضح کیا تھا کہ اگر کوئی دلت شہری ان تین مذاہب کے علاوہ اسلام یا عیسائیت اختیار کرتا ہے تو وہ قانونی طور پر اپنے شیڈولڈ کاسٹ کے درجے اور مراعات سے محروم ہو جاتا ہے۔
اس فیصلے کے دور رس اثرات ان نو مسلم افراد پر مرتب ہوں گے جو تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کی سہولت حاصل کرنے کے لیے قانونی جدوجہد کر رہے تھے۔




