سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن سے مکہ مکرمہ کی سمت آنے والے ایک ڈرون کو ہدف تک پہنچنے سے قبل فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ یمن کی حوثی تحریک نے اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ منگل پندرہ ستمبر کی شام تقریباً چھ بج کر پچاس منٹ پر پیش آیا، جب سعودی فضائیہ نے مکہ مکرمہ کے جنوبی علاقے میں ڈرون کو روک کر اس وقت تباہ کیا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ڈرون کا ملبہ شہر کے جنوب میں غیر آباد حصے پر گرا۔
BREAKING | Saudi-led Arab Coalition: Saudi air defenses intercepted and destroyed a Houthi drone before it entered the restricted airspace over the holy city of Mecca.
The coalition said the incident marks a second attempt to target Mecca, following a ballistic missile launch… pic.twitter.com/Nx6z6EKvtu— The Middle East (@A_M_R_M1) September 16, 2026
سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثی فورسز کی جانب سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش تھی۔ ترجمان نے موقف اختیار کیا کہ ستائیس جولائی دو ہزار سترہ کو بھی حوثیوں نے مقدس شہر کی جانب بیلسٹک میزائل داغا تھا جسے بروقت دفاعی نظام نے تباہ کیا تھا۔ ترجمان نے واضح الفاظ میں کہا کہ مسجد الحرام، حرمین شریفین اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین و حجاج کرام کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں کے تدارک کے لیے اتحاد کی جانب سے موثر جوابی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔
دوسری جانب صنعا میں حوثی سیاسی بیورو کے سینئر رکن حازم الاسد نے سعودی عرب کے الزامات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک پرانا اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے الزامات ماضی میں بھی عائد کیے گئے تھے جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اب کوئی بھی اس بیانیے پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حوثی قیادت کے اس موقف کے بعد دونوں فریقین کے درمیان بیانات کا کھلا تضاد سامنے آیا ہے، تاہم آزاد ذرائع سے واقعے کی فوری غیر جانبدارانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس کارروائی سے کچھ ہی دیر قبل سعودی سول ڈیفنس نے مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت متعدد مغربی خطوں میں ممکنہ فضائی خطرے کے ہنگامی الرٹس جاری کیے تھے، تاہم دفاعی نظام کی کارروائی مکمل ہونے کے فوری بعد خطرہ ٹلنے کا باضابطہ اعلان کر کے شہریوں اور زائرین کو اطمینان دلایا گیا۔ سعودی حکام نے اس کوشش کو عالم اسلام کے سب سے مقدس مقام اور مسلمانوں کے قبلہ پر کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
یہ تمام تر کشیدگی ایک ایسے وقت میں رونما ہوئی ہے جب یمن تنازعے کے محاذ پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔




