لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ملک کے تعلیمی اور امتحانی نظام کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور احتجاجی طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا پورا تعلیمی اور امتحانی ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور اسے دیمک کی طرح چاٹا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے واضح کیا کہ اپوزیشن طلبہ کے مطالبات اور ان کے مستقبل سے جڑے مسائل کو کسی صورت دبنے نہیں دے گی اور ان کی آواز کو سڑکوں سے لے کر ایوانِ پارلیمنٹ تک پوری قوت کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے بیان اور صحافیوں سے گفتگو میں راہل گاندھی نے انکشاف کیا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے اسپیکر سے ملاقات کرکے طلبہ کے اہم مسائل پر فوری بحث کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اسپیکر کی جانب سے حکومت سے اجازت لینے کا اشارہ دیا گیا۔ اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ پیر کے روز طلبہ کے ساتھ جو مبینہ تشدد اور بدسلوکی ہوئی، اس پر وزیراعظم مودی نے معافی تک نہیں مانگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب نوجوان اپنے جائز حقوق اور امتحانی نظام میں شفافیت کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں تو وزیراعظم خاموش کیوں ہیں؟ اگر پارلیمنٹ ملک کے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل پر بحث نہیں کر سکتی تو اس ایوان کا مقصد باقی نہیں رہتا۔
اس مسئلے پر اپوزیشن کی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما اروند ساونت سمیت کئی دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی راہل گاندھی کا ساتھ دیا۔ نئی دہلی میں حالات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب کانگریس قیادت نے طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف وزیراعظم کی رہائش گاہ کی جانب احتجاجی مارچ کیا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت سینئر رہنما لوک کلیان مارگ کے قریب سڑک پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے موقع پر پہنچ کر اپوزیشن رہنماؤں سے بات چیت کی، جبکہ سیکورٹی اہلکاروں نے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
کانگریس نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے سامنے جاری اس احتجاج کے دوران حکومت کے سامنے پانچ اہم مطالبات رکھے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے مرکزی وزیر تعلیم کے فوری استعفے، مرکزی وزیر داخلہ کے ایوان میں باضابطہ بیان، امتحانی نظام پر سنسد میں تفصیلی بحث، طلبہ کے مطالبات کی فوری سماعت اور احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی نے عام شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ طلبہ کے حقوق کی اس لڑائی میں شامل ہوں کیونکہ طلبہ پر حملہ ہر ہندستانی خاندان کے مستقبل پر حملہ ہے۔
موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی اور امتحانی شفافیت کا معاملہ اب سیاسی طور پر انتہائی حساس رخ اختیار کر چکا ہے۔ اپوزیشن نے صاف کر دیا ہے کہ جب تک امتحانی شفافیت کی ضمانت نہیں دی جاتی اور ذمہ داروں کی جوابدہی طے نہیں کی جاتی، وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔




