پیپر لیک اور دہلی میں لاٹھی چارج پر راہل گاندھی کا سخت ردعمل

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن قومی دارالحکومت نئی دہلی میں امتحانی دھاندلیوں اور پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس فورس کے مبینہ تشدد کے بعد ملک کی سیاسی فضا شدید گرم ہو گئی ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کرتے ہوئے انہیں بھارت کی تاریخ کا "سب سے زیادہ نوجوان دشمن وزیر اعظم” قرار دیا ہے۔ راہول گاندھی کا یہ سخت ردعمل اس وقت سامنے آیا جب نئی دہلی میں امتحانی نظام میں شفافیت اور NEET پیپر لیک کی مخالفت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے تحت ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں کے پارلیمنٹ مارچ کو سیکیورٹی فورسز نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے ذریعے زبردستی روک دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک انتہائی سخت بیان اور ویڈیو پیغام میں کانگریس رہنما نے ملک میں تعلیمی بحران کے سنگین اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ملک میں 152 بار مختلف امتحانات کے پیپر لیک ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے تقریباً ساڑھے سات کروڑ طلبہ کا تعلیمی مستقبل شدید طور پر متاثر ہوا ہے۔ راہول گاندھی نے حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ہونے کے باوجود اب تک کسی ایک بھی بڑے مجرم یا امتحانی مافیا کو سزا نہیں دی گئی، جو موجودہ نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

راہول گاندھی نے دہلی پولیس کی جانب سے پرامن طریقے سے مارچ کرنے والے طلبہ کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور ان پر تشدد کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں پر اپنے حقوق مانگنے کے لیے نکلنے والے نوجوان اور لڑکیاں کوئی مجرم نہیں ہیں، بلکہ وہ ملک کا اثاثہ ہیں جو صرف ایک شفاف، باوقار اور بہتر تعلیمی نظام کا تقاضا کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت پیپر لیک کرنے والے اصل مجرموں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے جبکہ اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے جائز آواز اٹھانے والے مظلوم طلبہ پر لاٹھیاں برسا کر انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے، جو کہ بھارتی جمہوریت اور عوامی روایات کے بالکل منافی ہے۔

اس تعلیمی اور سیاسی بحران کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کانگریس رہنما نے سنگین الزام عائد کیا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے ملک کے پورے تعلیمی ڈھانچے اور اہم اداروں پر قبضہ کر لیا ہے، جس کی وجہ سے میرٹ پامال ہو رہی ہے اور ملک کے نوجوانوں میں مایوسی و عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نوجوانوں کا احترام کرنے کے بجائے جھوٹ اور تشدد کے اصولوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت کو طاقت کے بل بوتے پر نوجوانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش بند کرنی چاہیے اور ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔

ملک کی موجودہ آبادی میں نوجوانوں کی اکثریت کو دیکھتے ہوئے راہول گاندھی نے انتباہ دیا کہ یہ احتجاج نوجوانوں کا ایک قدرتی اور جمہوری ردعمل ہے، جسے پولیس کی بربریت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی اور تمام اپوزیشن جماعتیں ملک کے طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہیں اور پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک اس ناانصافی کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مانسون اجلاس کے آغاز پر ہی اپوزیشن کی جانب سے طلبہ تحریک کو ملنے والی اس جارحانہ حمایت نے مودی حکومت کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔

شیئر کریں۔