بنگلورو (فکروخبر نیوز): کرناٹک میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR) کے دوران فارم 7 کے ذریعے نام کاٹنے کی مبینہ کوششوں اور پیدا شدہ تنازعات کے درمیان ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) وی انبوکمار نے اہم اور بڑی وضاحت جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ریاست بھر سے نام حذف کرنے کے لیے 91,278 فارم 7 درخواستیں موصول ضرور ہوئی ہیں، لیکن طے شدہ قانونی ضوابط، نوٹس اور سماعت کے بغیر اب تک ایک بھی ووٹر کا نام لسٹ سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔
بنگلورو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الیکشن کمشنر نے بتایا کہ 16 جون سے 4 اکتوبر کے درمیان موصول ہونے والی تمام درخواستوں کی الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) کی دیکھ بھال میں تفصیلی جانچ کی جارہی ہے۔ قانون کے مطابق اعتراض درج کرانے والے اور متعلقہ ووٹر دونوں کو نوٹس جاری کر کے 7 دنوں کے اندر سماعت کی جائے گی، جس کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیدر میں سب سے زیادہ 5,953، شیموگا میں 5,936 اور دکشن کنڑ (منگلورو) میں 5,534 فارم 7 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
چیف الیکٹورل آفیسر نے انتباہ دیا کہ جو لوگ دانستہ طور پر غلط معلومات، فرضی دعوے یا غیر قانونی طور پر بلک فارمز جمع کر رہے ہیں، ان کے خلاف ‘ریپریزنٹیٹو آف دی پیپلز ایکٹ’ کی دفعہ 31 کے تحت سخت قانونی کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ووٹرز کو ہر سماعت کے لیے خود حاضر ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ بوتھ لیول آفیسرز (BLO) گھر گھر جا کر بھی دستاویزات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ ریاست میں دعوؤں اور اعتراضات کے تصفیے کی آخری تاریخ 22 اکتوبر مقرر کی گئی ہے، جبکہ حتمی ووٹر لسٹ 27 اکتوبر 2026 کو شائع کی جائے گی۔




