نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر کی طرف مارچ کے دوران پولیس کی جانب سے روکے جانے کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے درجنوں اراکین پارلیمنٹ آکاش وانی بھون کے احاطے میں احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔ یہ پیش رفت منگل، 6 اکتوبر 2026 کو اس وقت سامنے آئی جب اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی کے عمل اور ووٹر لسٹوں سے بڑے پیمانے پر ناموں کے مبینہ اخراج کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ سے مارچ شروع کیا۔ دہلی پولیس نے الیکشن کمیشن کی عمارت جانے والے تمام راستوں پر سخت بیریکیڈنگ کر رکھی تھی اور مارچ کو آگے بڑھنے سے روک دیا، جس کے بعد اپوزیشن قائدین نے قریبی آکاش وانی بھون کے احاطے میں بیٹھ کر اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
پولیس کی بھاری نفری اور ریپڈ ایکشن فورس کی تعیناتی کے دوران قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینوگوپال، دیپیندر ہڈا اور پون کھیڑا سمیت متعدد اراکین پارلیمنٹ بیریکیڈز عبور کر کے اندر داخل ہوئے۔ دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور ترنمول کانگریس کے ابھیشیک بنرجی سمیت کئی سرکردہ رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے کر پولیس بسوں میں منتقل کیا۔ راہل گاندھی نے احاطے کے اندر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے کروڑوں شہریوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر کمشنروں سے مل کر سوالات پوچھنا چاہتے ہیں، مگر کمیشن اپوزیشن کے خدشات کا سامنا کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے منگل کے روز ملاقات کے لیے کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
تنازع کی بنیادی وجہ انتخابی فہرستوں میں خصوصی نظر ثانی کا وہ عمل ہے جس کے تحت اپوزیشن کے مطابق کروڑوں حقیقی شہریوں اور خاص طور پر پسماندہ طبقات اور اقلیتی ووٹوں کو نشانہ بنا کر لسٹوں سے خارج کیا گیا ہے۔ انڈیا اتحاد کی 19 جماعتوں نے 30 ستمبر کو ایک مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ ووٹر حقوق کے تحفظ اور ووٹ چوری کے الزامات پر پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک مارچ کریں گی اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کریں گی۔ اس معاملے پر گزشتہ چند ہفتوں سے ملک گیر سطح پر بے چینی پائی جا رہی ہے اور سول سوسائٹی کے علاوہ طلبہ تنظیموں نے بھی 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر بڑے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
اپوزیشن کا موقف ہے کہ حق رائے دہی شہریوں کا بنیادی اور دستوری حق ہے، اور اگر انتخابی عمل کی شفافیت پر شکوک و شبہات پیدا ہو جائیں تو جمہوری نظام کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ انتخابی فہرستوں سے ناموں کے اخراج کو انسانی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے عام ووٹر کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کے حق سے محروم کرنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے غیر جانبدارانہ کردار کو نبھانے کے بجائے یکطرفہ فیصلوں کے تحت کام کر رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک وفد صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے اس پورے معاملے پر یادداشت پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ جبکہ آکاش وانی بھون میں جاری اس غیر معینہ مدت کے دھرنے اور آئندہ چند روز میں اعلان کردہ مظاہروں سے سیاسی درجہ حرارت میں مزید تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔




