راجیہ سبھا: وندے ماترم بل پر اپوزیشن کا زبردست احتجاج، 3 سال قید اور جرمانے کی دفعات شامل

پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کے دوران جمعہ کو راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے شددید ہنگامے اور نعرے بازی کے بیچ مرکزی حکومت نے ‘پریوینشن آف اِنسلٹ ٹو نیشنل آنر (ترمیمی) بل’ پیش کر دیا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے اپوزیشن کے شدید اعتراضات اور شور شرابے کے درمیان اس اہم قانون سازی کو ایوان کی میز پر رکھا۔ اس ترمیمی بل کا بنیادی مقصد قومی وقار سے متعلق دہائیوں پرانے قوانین کو اپ ڈیٹ کرنا اور قومی علامتوں، قومی پرچم اور قومی گیت کے احترام سے متعلق قانونی دفعات کو مزید سخت اور واضح بنانا ہے۔

حکومت کی جانب سے ایوان میں پیش کیے گئے اس ترمیمی بل کے تحت قومی گیت ‘وندے ماترم’ کا احترام لازمی قرار دینے اور اس کی توہین یا اس کی ادائیگی میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ مجوزہ قانون کے مطابق اگر کوئی شخص قصداً وندے ماترم کی توہین کا مرتکب پایا جاتا ہے یا اس کے گائے جانے کے دوران گڑبڑ پیدا کرتا ہے تو اسے تین سال تک کی قید با مشقت، بھاری جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قومی علامات کا تحفظ اور احترام ہر شہری کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، جس کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایوان میں بل پیش کیے جانے کے دوران اپوزیشن اراکین نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور بل کو لانے کے وقت، اس کی نوعیت اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر اس کے ممکنا اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اپوزیشن کے شور و غل کے باعث ایوان کی کارروائی کچھ دیر کے لیے متاثر بھی ہوئی، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس بل پر تمام پہلوؤں سے ایوان میں مفصل بحث کروائی جائے گی، جس کے بعد ہی اسے حتمی منظوری کے مراحل سے گزارا جائے گا۔

سیاسی و قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ترمیمی بل کے پاس ہونے کی صورت میں قومی علامات سے متعلق معاملات میں پولیس اور انتظامیہ کے اختیارات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں ایوان کے اندر اور باہر اس بل کی مختلف دفعات، بالخصوص آزادی اظہار اور شہریوں کے حقوق سے جڑے نقطہ نظر پر حکومت کو گھیرنے اور پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ جاری رکھیں گی۔

شیئر کریں۔