الیکشن کمیشن کے اندرونی تنازع پر اپوزیشن کا زبردست احتجاج: چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی اور گرفتاری کا مطالبہ، ایس آئی آر مہم فوری روکنے کی اپیل

الیکشن کمیشن آف انڈیا میں خصوصی گہری نظرثانی مہم یعنی ایس آئی آر کے دوران پیدا ہونے والے اندرونی اختلافات اور متنازع فیصلوں کی اطلاعات عام ہونے کے بعد ملک کے سیاسی میدان میں زبردست ارتعاش پیدا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر متحدہ محاذ قائم کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کرنے، ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانے اور ملک بھر میں جاری انتخابی فہرستوں کی نظرثانی مہم کو فی الفور معطل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ یہ سیاسی ردعمل اس تحقیقاتی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تین رکنی کمیشن کے دو الیکشن کمشنرز، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم چودہ مرتبہ ووٹر لسٹوں سے نام خارج کرنے، نئے اندراج اور قواعد کی تبدیلیوں پر تحریری اعتراضات درج کرائے تھے اور الزام لگایا تھا کہ کئی حساس فیصلے ان کی منظوری کے بغیر یکطرفہ طور پر نافذ کیے گئے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام فیصلے باہمی اتفاق رائے سے کیے گئے، لیکن اس وضاحتی بیان سے اپوزیشن کا غم و غصہ ٹھنڈا نہیں ہو سکا۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے انتخابی عملے اور چیف الیکشن کمشنر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا اور ویڈیو پیغام میں اس صورتحال کو کھلم کھلا ووٹ چوری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنا عوام کے خلاف سنگین جرم، آئین ہند پر براہ راست حملہ اور ملک کے ساتھ بدعنوانی کے مترادف ہے۔ راہل گاندھی نے سخت لہجے میں متنبہ کیا کہ اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کا محاسبہ کیا جائے گا اور وہ قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی اس مہم کے تحت کروڑوں شہریوں، خصوصاً پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور نادار ووٹرز کو انتخابی عمل سے باہر کرنے کے شدید خدشات پیدا ہو چکے ہیں، جن کی آزادانہ جانچ ہونا ازحد ضروری ہے۔

کانگریس پارٹی کے سینئر رہنماؤں پی چدمبرم، جے رام رمیش، کے سی وینوگوپال اور پون کھیڑا نے پریس بیانات میں الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن کو ایک فرد کی آمریت کے طور پر چلایا جا رہا ہے جس سے اس باوقار آئینی ادارے کی غیر جانبداری اور دیانت داری کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ اپریل کے مہینے میں راجیہ سبھا کے ستر سے زائد ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے مواخذے سے متعلق دیا گیا نوٹس پہلے ہی زیر التواء ہے، لہٰذا اس معاملے کی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے مکمل چھان بین ہونی چاہیے اور موجودہ تنازع کے حل تک ایس آئی آر کا عمل روکا جائے۔ بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی (ایم) کے رہنما جان برٹاس سمیت ڈیرک او برائن اور سنجے راوت نے بھی یک زبان ہو کر کہا کہ کمیشن کے اختیارات کو ایک جگہ مرکوز کر کے باقی دو ارکان کے مساوی آئینی وقار کو مجروح کیا گیا ہے۔

عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے ایس آئی آر کے تحت کی گئی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کی باضابطہ مشترکہ میٹنگز ہی منعقد نہیں ہوئیں اور احکامات تنہا جاری کیے گئے تو اس عمل کی کوئی قانونی سند باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹوں کو تین سال پرانی پوزیشن پر بحال کیا جائے اور جن ریاستوں میں حالیہ نظرثانی کے تحت مشکوک تبدیلیاں کی گئی ہیں ان پر سنجیدگی سے نظرثانی کی جائے۔ اپوزیشن جماعتوں کا اصرار ہے کہ جب ادارے کے اپنے دو کمشنرز نے تحریری طور پر احکامات کو غیر مجاز قرار دیا ہو اور نئے ووٹرز کی رجسٹریشن کو مشکل بنانے پر تحفظات ظاہر کیے ہوں، تو عوام کا انتخابی نظام پر سے اعتماد متزلزل ہونا فطری ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ذرائع بدستور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تمام ریاستی اور ملکی سطح کی مہمات تینوں کمشنرز کے باہمی مشورے سے چلائی جا رہی ہیں اور فیصلوں پر قانونی مہر ثبت ہے۔ اس کے باوجود سیاسی حلقوں میں جوابدہی کا مطالبہ تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد ایک غیر جانبدار اور آئینی توازن پر مبنی الیکشن کمیشن کے بغیر ناممکن ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ فوری مداخلت کر کے انتخابی فہرستوں کی شفافیت اور کروڑوں ووٹرز کے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

شیئر کریں۔