ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا نے ملک بھر میں سرگرم ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ صارفین کے لیے خصوصی طور پر ایسے سستے ریچارج پلانز پیش کریں جن میں انٹرنیٹ ڈیٹا کے بغیر صرف وائس کال اور ایس ایم ایس کی سہولت موجود ہو۔ ریگولیٹر کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ان صارفین کو غیر ضروری معاشی بوجھ سے بچانا ہے جو اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ سروسز استعمال نہیں کرتے لیکن انہیں لازمی ڈیٹا والے مہنگے بنڈل پلانز خریدنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ اس اقدام سے ٹیلی کام انڈسٹری کی فی صارف اوسط آمدنی یعنی اے آر پی یو پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق ریگولیٹر نے واضح کیا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں تیس دن یا اس سے کم مدت والے اسپیشل ٹیرف واؤچرز متعارف کرائیں جن کے ٹیرف میں موجودہ بنڈل پیکجز کے مقابلے مناسب اور واضح کمی کی جائے۔ ملک میں اس وقت کروڑوں ایسے شہری موجود ہیں جو سادہ کی پیڈ فون استعمال کرتے ہیں جن میں بزرگ افراد، دیہی آبادی، چھوٹے دکاندار اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور طبقے شامل ہیں۔ ان پسماندہ طبقات کو صرف رابطے کے لیے ہر ماہ مہنگے ڈیٹا والے پلانز خریدنے پڑ رہے تھے، جس سے ان کے ماہانہ گھریلو بجٹ پر غیر منصفانہ بوجھ پڑ رہا تھا۔
ٹیلی کام مارکیٹ میں پچھلے چند برسوں کے دوران نجی کمپنیوں کی جانب سے ٹیرف ریٹس میں مسلسل اضافہ کیا گیا اور مارکیٹ سے سستے وائس اونلی واؤچرز تقریباً ختم کر دیے گئے تھے۔ اس رجحان نے کمپنیوں کی فی صارف اوسط آمدنی میں تو زبردست اضافہ کیا لیکن معاشرے کے معاشی طور پر کمزور اور نادار طبقات کو مواصلاتی خدمات کے بنیادی حق سے دور کرنے کا خدشہ پیدا کر دیا تھا۔ ریگولیٹری جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ڈیٹا سروسز کی زبردستی فروخت کھپت کاروں کے مفادات کے منافی ہے اور صارفین کو اپنی ضرورت کے مطابق انتخاب کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔
اس نئے فیصلے سے جہاں ایک طرف عام شہریوں اور غریب طبقے کو فوری ریلیف ملے گا، وہیں دوسری طرف ٹیلی کام کمپنیوں کے مالیاتی تخمینوں میں وقتی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق بنڈل پلانز کی وجہ سے کمپنیوں کا جو کیش فلو اور اے آر پی یو تیزی سے بڑھ رہا تھا، اس میں سستے پلانز کے نفاذ کے بعد استحکام یا معمولی کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم معاشی عدم مساوات کو کم کرنے اور سماجی انصاف کی فراہمی کے تناظر میں یہ قدم انتہائی ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت تمام کمپنیوں کو جلد از جلد ان نئے پلانز کا شیڈول ریگولیٹر کو جمع کرانا ہوگا اور انہیں عام صارفین کے لیے مارکیٹ میں دستیاب کرنا ہوگا۔




