ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آج ہونے والے زبردست اضافے نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس ہوشربا اضافے کے بعد ملک کی اہم اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس اور عام آدمی پارٹی، نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے عوام کا معاشی استحصال قرار دیا ہے۔
دستیاب رپورٹس اور اعداد و شمار کے مطابق، صرف گزشتہ گیارہ دنوں کے اندر ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اور نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آج پٹرول کی قیمت میں دو اعشاریہ آٹھ سات روپے اور ڈیزل میں دو اعشاریہ آٹھ صفر روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح گزشتہ دس دنوں کے دوران پٹرول مجموعی طور پر آٹھ اعشاریہ صفر چھ روپے اور ڈیزل سات اعشاریہ آٹھ صفر روپے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کا یہ تازہ سلسلہ پندرہ مئی سے شروع ہوا تھا، جب پٹرول تین اعشاریہ دو نو روپے اور ڈیزل تین اعشاریہ ایک ایک روپے مہنگا کیا گیا۔ اس کے بعد انیس اور تئیس مئی کو بھی قیمتوں میں بتدریج اضافہ کیا گیا اور آج پچیس مئی کو ایک بار پھر عوام پر مہنگائی کا بھاری بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
اس تشویشناک معاشی صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی نے طنزیہ انداز میں وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چند سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام کی جیبیں کاٹی جا رہی ہیں۔ کانگریس کا موقف ہے کہ عام شہری مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہا ہے، لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے قیمتوں کی وصولی اور اضافے کا یہ ظالمانہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔
عام آدمی پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے بھی اس مسلسل اضافے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد موجودہ حکومت کے لیے عوام کی اہمیت ختم ہو گئی ہے اور اب انہیں مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے معاشی اور زمینی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا، روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں اور عام تاجر کا کاروبار بری طرح متاثر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ پر پڑتا ہے، جس سے دودھ، سبزیاں اور روٹی جیسی بنیادی چیزیں خود بخود عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں نے متفقہ طور پر وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کی سنگین معاشی صورتحال اور غریب و متوسط طبقے کی پریشانیوں کو سنجیدگی سے لیں۔ رہنماؤں کی جانب سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھی ہوئی قیمتیں فوری طور پر واپس لینے کا اعلان کیا جائے تاکہ عوام کو اس ہوشربا مہنگائی سے کچھ ریلیف مل سکے۔ موجودہ حالات میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ وفاقی حکومت اپوزیشن کے ان سخت مطالبات اور عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی پر کیا پالیسی اپناتی ہے۔



