ضلع میں پینے کے پانی کی قلت کی شکایات پر فوری ایکشن لیا جائے: سی ای او ضلع پنچایت ڈاکٹر دلیش ششی کی ہدایت

کاروار: (فکروخبرنیوز) ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ڈاکٹر دلیش ششی نے محکمہ دیہی فراہمیِ آب و صفائی کے افسران کو سخت ہدایت دی ہے کہ حالیہ موسمِ گرما کے دوران ضلع کے کسی بھی گاؤں سے پینے کے پانی کی قلت کی شکایت موصول ہونے پر فوری ردعمل ظاہر کیا جائے اور ترجیحی بنیادوں پر مسئلہ حل کیا جائے۔ وہ پیر کے روز ضلع پنچایت ہال میں منعقدہ "ضلعی واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمیٹی” کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے خطاب کر رہے تھے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع کی 41 گرام پنچایتوں میں پانی کی قلت محسوس کی گئی ہے جن میں سے 17 دیہاتوں میں فی الوقت سرکاری اور نجی ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر دلیش ششی نے بتایا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلع بھر میں 98 نجی بور ویلز کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ کسی بھی علاقے میں پانی کا بحران پیدا ہونے پر وہاں سے سپلائی یقینی بنائی جا سکے۔

سی ای او نے افسران کو ہدایت دی کہ دیہی علاقوں میں سپلائی لائنوں (پائپ لائنز) کی باقاعدگی سے دیکھ بھال کی جائے تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔ انہوں نے پانی کے معیار پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لیبارٹریوں میں پانی کے نمونوں کی مسلسل جانچ کی جائے تاکہ کسی بھی صورت میں آلودہ پانی کی سپلائی نہ ہو اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

"جل جیون مشن” اسکیم کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ضلع میں اب تک 745 کام مکمل ہو چکے ہیں، جن میں سے 685 گرام پنچایتوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ اس منصوبے پر اب تک 481.25 کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، جو کہ کل بجٹ کا تقریباً 54.76 فیصد ہے۔ انہوں نے زیرِ التوا کاموں کو جلد از جلد مکمل کرنے اور جنگلات کے محکمے سے متعلقہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مسلسل فالو اپ کرنے کی ہدایت دی۔

اس اجلاس میں ضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹری اللہ بخش، چیف اکاؤنٹ آفیسر آنند سا حبیب، ایگزیکٹو انجینئر ستیپا اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔

شیئر کریں۔