یوپی میں صرف ساڑھے تین فیصد مسلمان گریجویٹ، جوہر یونیورسٹی پر کارروائی تعلیمی مستقبل پر حملہ: اویسی

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اتر پردیش کے شہر سہارنپور کے دورے کے دوران رامپور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے معاملے پر ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسد الدین اویسی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نہیں چاہتی کہ مسلم برادری کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، اور اسی مخصوص ذہنیت کے تحت جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ محض ایک عمارت یا یونیورسٹی کا نہیں ہے، بلکہ یہ براہ راست مسلم معاشرے کی تعلیم اور ان کے روشن مستقبل سے وابستہ ایک سنگین سوال ہے۔

رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اتر پردیش میں مسلم برادری کی تعلیمی پسماندگی کے حوالے سے اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 19 سے 20 فیصد کے درمیان ہے، لیکن اس کے برعکس اعلیٰ تعلیم میں ان کی شمولیت انتہائی مایوس کن ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اویسی نے دعویٰ کیا کہ اتر پردیش میں صرف 3.5 سے 3.7 فیصد مسلمان ہی گریجویٹ ہیں، جبکہ مسلم برادری کی مجموعی شرحِ خواندگی 53 سے 54 فیصد کے آس پاس ہے۔ انہوں نے خاص طور پر مسلم خواتین کی تعلیمی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مزید ابتر اور توجہ طلب قرار دیا۔

اپنے خطاب کے دوران اویسی نے جوہر یونیورسٹی کے تعلیمی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ادارے میں تقریباً 3 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جن کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر یونیورسٹی کے انتظامی یا زمین سے متعلق معاملات میں کسی بھی قسم کا قانونی یا انتظامی مسئلہ موجود ہے، تو اس کا حل رائج قوانین کے دائرے میں رہ کر نکالا جانا چاہیے، نہ کہ پورے ادارے کو بلڈوزر پالیسی کا نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو تنازعات میں الجھا کر طلبہ کے مستقبل کو تاریک کرنا کسی بھی جمہوری حکومت کو زیب نہیں دیتا۔

سیاسی نظام اور عوامی نمائندوں کے رویے پر بات کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے آئینِ ہند کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر سے جب عوامی نمائندوں کے کردار کے متعلق سوال کیا گیا تھا، تو انہوں نے تبصرہ کیا تھا کہ بعض لوگ صرف رسمی کارروائی پوری کرنے کے لیے ہی ایوانوں میں بولتے ہیں۔ اویسی کے مطابق بابا صاحب کا یہ تبصرہ آج کے سیاسی نظام اور مسلم قیادت کے دعویداروں پر بالکل صادق آتا ہے جو زمین پر ٹھوس کام کرنے کے بجائے صرف بیانات تک محدود ہیں۔

اسد الدین اویسی نے اپنے دورے کے اختتام پر دہرایا کہ تعلیم ہی کسی بھی پسماندہ معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا سب سے مضبوط اور واحد ذریعہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتوں کی اولین ذمہ داری تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں مزید مضبوط بنانا ہے، نہ کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر انہیں بند کرنے کی راہیں ہموار کرنا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی پارٹی پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے تعلیمی و آئینی حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

شیئر کریں۔