جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز ملک کے دارالحکومت نئی دہلی میں نیشنل کانفرنس (این سی) کے ایک احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی، جس کا مقصد مرکز کی نریندر مودی حکومت کو جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا وہ وعدہ یاد دلانا تھا جو سال 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے وقت کیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے مونسون اجلاس کے پہلے ہی دن جموں و کشمیر کی برسرِ اقتدار جماعت نے دہلی کی سڑکوں پر اتر کر اپنے سیاسی مطالبات کو جارحانہ انداز میں پیش کیا، جس سے دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں گرمی بڑھ گئی ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پیر کی صبح جموں میں اچانک آنے والے سیلاب کے بعد امدادی اور بچاؤ کارروائیوں کی ذاتی طور پر نگرانی کرنے گئے ہوئے تھے۔ وہاں سے واپس دہلی پہنچتے ہی وہ سیدھے ‘جے کے ہاؤس’ کے باہر پہنچے، جہاں نیشنل کانفرنس کے ارکانِ اسمبلی اور رہنما پہلے سے ہی احتجاج کے لیے جمع تھے۔ دہلی پولیس کی جانب سے لگائی گئی سخت بیریکیڈنگ کے قریب عمر عبداللہ خود زمین پر دھرنے پر بیٹھ گئے اور ایک پلے کارڈ تھامے نظر آئے جس پر واضح الفاظ میں درج تھا: "جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور وقار بحال کرو۔” وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ انہیں جنتر منتر جانے سے روکا گیا، لیکن عوامی حقوق کی یہ جدوجہد اب رکنے والی نہیں ہے۔
اس اہم احتجاجی مظاہرے میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور پارٹی کے متعدد سینئر قائدین نے شرکت کی اور "ہمیں ریاست کا درجہ دو” کے فلک شگاف نعرے بلند کیے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی غلام احمد میر اور طارق حمید قرہ نے بھی اس دھرنے میں شامل ہو کر نیشنل کانفرنس کے موقف کی حمایت کی۔ تاہم، پچاس سے زائد سیاسی جماعتوں کو اس احتجاج میں شرکت کی دعوت دیے جانے کے باوجود، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی (ایم) کے علاوہ کسی دوسری قومی یا علاقائی جماعت نے اس مظاہرے میں براہِ راست حصہ نہیں لیا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں کسی تصادم کے لیے نہیں بلکہ صرف وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو ان کا وہ وعدہ یاد دلانے آئے ہیں جو انہوں نے پارلیمنٹ کے ایوان، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام سے کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے جمہوری حقوق اور ان کی شناخت کو بحال کرنا مرکز کی ذمہ داری ہے۔ اسی دوران انہوں نے نیٹ پرچہ لیک معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبا کی بھی حمایت کی اور لداخ کے مسائل کو حل کرنے سمیت سرگرم کارکن سونم وانگچک کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف، نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ منتخب حکومت ہونے کے باوجود انہیں اپنے بنیادی حقوق مانگنے کے لیے دہلی کی سڑکوں پر بیٹھنا پڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ سال 2019 میں دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد سابقہ ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہاں کی مقامی قیادت اور عوام میں اپنی شناخت اور حقوق کو لے کر شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس نے اپنے انتخابی منشور میں خصوصی حیثیت کی بحالی کا عزم ظاہر کیا تھا، لیکن موجودہ سیاسی منظر نامے میں پارٹی نے جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاستی درجہ دینے کے مطالبے کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا ہے۔ وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں بھی اس احتجاج کی حمایت میں پارٹی کارکنان نے مظاہرے کیے ہیں، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی کا معاملہ آنے والے دنوں میں مرکز اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان مزید تنازع کا سبب بن سکتا ہے۔




