نیٹ امتحان : یہ نظام طلبہ کے صبر کا امتحان لے رہا ہے ، ابو ظہبی میں امتحان سینٹر الاٹ کرنے پر راہل گاندھی برہم

ملک کے سب سے بڑے اور باوقار طبی داخلہ امتحان نیٹ (قومی اہلیت کم داخلہ ٹیسٹ) کے پیپر لیک اور نتائج میں مبینہ دھاندلی کے بعد دوبارہ کرائے جا رہے امتحان میں بھی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی سنگین لاپرواہیاں اور تکنیکی خامیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ تازہ ترین چونکا دینے والے واقعے میں ناگپور کے ایک ہونہار مسلم طالب علم عبداللہ محمد طالب کو 21 جون کو ہونے والے ‘نیٹ ری ایگزام’ کے لیے ملک کے اندر کسی مقامی متبادل کے بجائے سیدھے بیرون ملک یعنی ابوظہبی (متحدہ عرب امارات) کا امتحانی مرکز الاٹ کر دیا گیا۔ اس غیر ذمہ دارانہ فیصلے نے امتحان سے محض ایک دن قبل طالب علم اور اس کے اہل خانہ کو شدید ذہنی اذیت اور گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔ متاثرہ طالب علم عبداللہ نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس تو پاسپورٹ تک موجود نہیں ہے اور نہ ہی ان کے خاندان کی اتنی مالی حیثیت ہے کہ وہ امتحان دینے کے لیے اچانک بیرون ملک کا سفر کر سکیں۔

اس حساس معاملے کے سامنے آتے ہی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے مودی حکومت اور این ٹی اے کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عبداللہ کی حالت زار کو اجاگر کرتے ہوئے سخت الفاظ میں مرکز کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے لکھا کہ ناگپور کا یہ طالب علم گزشتہ ایک ماہ سے دن رات نیٹ کی تیاری کر رہا تھا، لیکن امتحان سے ایک روز قبل جب اس نے اپنا ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ کیا تو امتحانی مرکز ابوظہبی نکلا۔ راہل گاندھی نے مودی حکومت کے تعلیمی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نہ پاسپورٹ ہے، نہ خاندان کے پاس بیرون ملک بھیجنے کے پیسے اور نہ ہی اب وقت بچا ہے، وہ بچہ رات بھر روتا رہا اور اب امتحان دینے سے ہی انکار کر رہا ہے۔ انہوں نے ملک کے حکمرانوں سے پوچھا کہ کیا اس معصوم بچے کے ذہنی تناؤ کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ جو نظام اپنے ملک کے بچے کو اس کے اپنے شہر میں ایک مرکز نہیں دے سکتا، اسے امتحان کرانے کا کوئی حق نہیں ہے اور اب مودی حکومت کو بچوں کے مستقبل کے ساتھ یہ گھناؤنا جوا بند کرنا ہوگا۔

دوسری جانب مہاراشٹر کے سابق وزیر اور کانگریس کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر انیس احمد نے بھی اس معاملے پر شدید ناراضگی اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این ٹی اے نے ملک کے اتنے اہم اور حساس امتحان کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ ڈاکٹر انیس احمد نے فوری طور پر معاملے کو اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھایا اور ہیلپ لائن پر رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کل دیر رات این ٹی اے حکام سے بات چیت کے بعد ایجنسی نے اپنی فاش غلطی کا اعتراف کیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ سنیچر کی شام تک عبداللہ کو ناگپور کے اندر ہی نیا امتحانی مرکز الاٹ کر کے ترمیمی ایڈمٹ کارڈ جاری کر دیا جائے گا۔ اس سنگین تنازع کے بعد اب این ٹی اے نے بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شکایت کا ازالہ کیا جا رہا ہے اور ضروری تصدیق کے بعد اگلے چند گھنٹوں میں امیدوار کو ناگپور میں ہی امتحانی مرکز فراہم کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عبداللہ نے امتحانی فارم بھرتے وقت ناگپور اور وردھا کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا تھا، اور اس سے قبل ہوئے نیٹ امتحان میں بھی انہیں ناگپور کا ہی سینٹر ملا تھا۔ مگر دوبارہ امتحان کے نام پر این ٹی اے کے اس ناقص اور غفلت سے بھرے رویے نے مودی حکومت کے ان دعووں کی قلعی کھول دی ہے جس میں وہ شفاف امتحانات کا راگ الاپتی ہے۔ اس واقعے نے مسلم اقلیتی طبقے اور متوسط خاندانوں کے طلبہ میں عدم تحفظ اور شدید مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے، جو پہلے ہی پیپر لیک کے باعث ذہنی تناؤ کا شکار تھے۔ عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد اگرچہ اب این ٹی اے اپنی غلطی سدھارنے پر مجبور ہوئی ہے، لیکن اس واقعے نے ہندوستانی تعلیمی نظام کی ساکھ اور این ٹی اے کی کارکردگی پر ایک بار پھر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

شیئر کریں۔