نیتراوتی ندی کے کنارے آدھار کارڈوں کا ڈھیر ملنے سے تشویش ، اسپیکر یو ٹی قادر نے تحقیقات کا مطالبہ کیا

بنٹوال : منگلورو کے قریب فرنگی پیٹ علاقے میں نیتراوتی ندی کے کنارے بڑی تعداد میں آدھار کارڈ ملنے کے بعد مقامی لوگوں میں تشویش اور شکوک کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس واقعہ پر کرناٹک قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر یو ٹی قادر نے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق منگل کی شام ایک مقامی باشندے نے فرنگی پیٹ میں دسویں سنگ میل کے قریب نیتراوتی ندی کے کنارے پانی میں کئی آدھار کارڈ تیرتے ہوئے دیکھے۔ اس نے فوری طور پر اس کی اطلاع گرام پنچایت کے ذمہ داران کو دی۔ اطلاع ملنے پر پڈو گرام پنچایت کے صدر راملن ماری پلا اور دیگر عہدیداروں نے موقع پر پہنچ کر صورت حال کا جائزہ لیا اور بکھرے ہوئے آدھار کارڈ جمع کیے۔

ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ ان آدھار کارڈوں پر پڈو گاؤں کے رہائشیوں کے پتے درج ہیں۔ اس واقعہ کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سرکاری دستاویزات دریا کے کنارے کیسے پہنچ گئے۔

گرام پنچایت صدر کے مطابق گاؤں کے کئی لوگوں نے اپنے آدھار کارڈ میں تصحیح یا اپ ڈیٹ کے لیے درخواست دی تھی اور وہ ڈاک کے ذریعے نئے کارڈ آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ چونکہ کارڈز کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی تھی اس لیے بعض لوگوں نے فوری ضروریات کے تحت سائبر سینٹروں سے آدھار کارڈ کے پرنٹ آؤٹ حاصل کر لیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امکان ہے کہ اصل کارڈ ڈاک کے ذریعے پہنچنے کے باوجود متعلقہ افراد تک نہیں پہنچائے گئے اور مبینہ طور پر انہیں دریا کے کنارے پھینک دیا گیا۔

اس واقعہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسپیکر یو ٹی قادر نے یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) کے حکام کو نوٹ ارسال کرتے ہوئے فوری مداخلت اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی ہے کہ اس بات کی مکمل تحقیقات کی جائیں کہ آدھار کارڈ دریا کے کنارے کیسے پہنچے اور اس میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے۔

دوسری جانب گاؤں والوں نے بھی اس واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی لاپروائی دوبارہ پیش نہ آئے۔