نئی دہلی: این ای ای ٹی (NEET-UG) امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے تنازع پر جاری ملک گیر احتجاج اور اپوزیشن کے شدید دباؤ کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دھرمیندر پردھان نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کر دیا ہے، جس میں انہوں نے گزشتہ چند ایام کے واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ قدم ملک کی یکجہتی اور طلبا کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا ہے۔
وزیر تعلیم کے استعفے کے باوجود دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں طلبا اور احتجاجی تنظیموں کا مظاہرہ جاری ہے۔ جنتر منتر پر سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، جہاں پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھی چارج کیا۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر دہلی میٹرو نے سنٹرل دہلی کے ۱۸ میٹرو اسٹیشنوں کو بند کر دیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے، جبکہ دہلی پولیس نے عوام کو متعلقہ علاقوں میں سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
قومی دارالحکومت کے علاوہ بہار کے مختلف اضلاع بشمول پٹنہ، چھپرا اور اورنگ آباد میں بھی پرتشدد احتجاج اور پتھراؤ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ پٹنہ میں بند کی کال کے دوران پولیس گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ کئی سیاسی رہنماؤں اور مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ طلبا کے مطالبے کی پہلی فتح ہے اور حکومت کو امتحانات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت نے پیپر لیک کے معاملے پر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ۴۷ اہلکاروں کو برطرف کر دیا ہے اور پارلیمنٹ میں امتحانات میں دھاندلی کے خلاف سخت قانون لانے کی منظوری دی ہے۔ مرکزی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے ڈرافٹ بل کے تحت پیپر لیک میں ملوث افراد کے لیے ۱۰ سال تک کی قید اور بھاری جرمانے کی تجاویز شامل ہیں۔ پولیس انتظامیہ نے پیپر لیک کے معاملات کی تفتیش کے لیے کرائم برانچ کے تحت اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) بھی تشکیل دے دی ہے۔




