ٹی سی ایس کیس : ندا خان کو ناسک کی عدالت نےدی ضمانت

مہاراشٹر کے شہر ناسک کی ایک سیشن عدالت نے آئی ٹی شعبے کی معروف کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS) کے ناسک یونٹ میں مبینہ جنسی ہراسانی اور زبردستی تبدیلیِ مذہب کے ہائی پروفائل معاملے میں نامزد خاتون ملازمہ ندا خان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ ناسک روڈ کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج کے جی جوشی نے پیر کے روز اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ندا خان کی درخواستِ ضمانت کو قبول کیا، جبکہ اسی مقدمے کے ایک اور شریک ملزم دانش شیخ کی ضمانت کی عرضی کو عدالت نے یکسر مسترد کر دیا۔ عدالت نے ندا خان کو ان کے حمل (Pregnancy) کی حالت اور طبی بنیادوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ راحت فراہم کی ہے۔

اس اہم عدالتی کارروائی کے دوران ندا خان کے وکیل راہول کاسلیوال نے عدالت کے سامنے دلائل پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ حاملہ ہیں اور ان کی موجودہ طبی حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں انسانی ہمدردی اور طبی بنیادوں پر جیل سے رہا کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف سرکاری وکیل وجئے گائیکواڑ اور متاثرہ خاتون کے وکلاء ملند کرکوٹے اور نتن پنڈت نے ملزمان کی ضمانت کی سخت مخالفت کی۔ استغاثہ نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ اب تک کی پولیس تفتیش میں جنسی استحصال اور مذہبی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنے کے واضح شواہد ملے ہیں۔ پراسیکیوشن کے مطابق ملزم دانش شیخ پر الزام ہے کہ انہوں نے اسی کمپنی میں کام کرنے والی ایک درج فہرست ذات (SC) سے تعلق رکھنے والی خاتون ملازمہ کو اسلام سے متعلق ایک کتاب اور برقع فراہم کیا تھا، جو مبینہ طور پر عقیدے کی تبدیلی کی کوششوں کا حصہ تھا۔

یہ پورا معاملہ ناسک کے دیولالی کیمپ پولیس اسٹیشن میں درج کردہ ایک ایف آئی آر سے متعلق ہے، جس میں ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی دفعات 69 (دھوکے سے جنسی تعلقات قائم کرنا)، 65 (جنسی ہراسانی)، اور 299 (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا) کے ساتھ ساتھ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ یعنی ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کی مختلف سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ استغاثہ نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ملزمان نے متاثرہ خاتون کے پسماندہ سماجی پس منظر (شڈولڈ کاسٹ) سے واقف ہونے کے باوجود انہیں مبینہ طور پر نشانہ بنایا اور ہراساں کیا۔

اس حساس معاملے کی سنگینی اور کارپوریٹ سیکٹر میں خواتین کے حقوق و تحفظ کے پیش نظر مہاراشٹر حکومت کی ہدایت پر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے۔ یہ ایس آئی ٹی اس وقت ٹی سی ایس ناسک کیمپس میں کام کرنے والی متعدد دیگر خاتون ملازمات کی جانب سے لگائے گئے استحصال، زبردستی تبدیلیِ مذہب کی کوششوں، دست درازی اور ذہنی ہراسانی کے الزامات سے جڑے کل نو مختلف متعلقہ مقدمات کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔ ان سنگین الزامات کے سامنے آنے کے بعد آئی ٹی کمپنی ٹی سی ایس نے بھی ایک سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کمپنی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ کام کی جگہ پر کسی بھی قسم کی ہراسانی، زبردستی یا امتیازی سلوک کے خلاف ‘زیرو ٹولرینس’ (شدید عدم برداشت) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ پولیس کی جاری تفتیش کے پیش نظر انکوائری مکمل ہونے تک ملوث ملازمین کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے۔

شیئر کریں۔