بنگلورو: عمر خالد اور شرجیل امام کے حمایتی پوسٹر پر خاتون کے خلاف کیس درج

کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے مشہور فریڈم پارک میں نوجوانوں کے ایک پرامن مظاہرے کے دوران جیل میں بند سرگرم کارکنان عمر خالد اور شرجیل امام کے حق میں پوسٹر لہرانے پر پولیس نے ایک نامعلوم خاتون کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ خاتون کے پاس موجود اشتعال انگیز پوسٹرز کا مقصد عوام میں بے چینی پھیلانا اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا تھا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں مقابلے کے امتحانات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں کے خلاف نوجوان احتجاج کر رہے ہیں۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ ایف آئی آر سب انسپکٹر سولوچنا کی درج کروائی گئی شکایت کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون نے احتجاج کے دوران ایسے پوسٹرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر عمر خالد اور شرجیل امام کی حمایت میں نعرے درج تھے، نیز اس میں بنگلورو پولیس کے خلاف بھی مبینہ طور پر ناگوار اور توہین آمیز الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔ علاوہ ازیں اطلاعات کے مطابق خاتون کے پاس ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے حقوق کی حمایت پر مبنی ایک اور پوسٹر بھی موجود تھا۔

کرناٹک کے محکمہ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق، پولیس کے خلاف مبینہ طور پر استعمال کی گئی ناگوار زبان اور نعرے بازی کے باعث اس معاملے میں قانونی کارروائی کی گئی ہے اور تعزیرات کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ پرامن مظاہرے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے لیکن اس دوران ایسی تحریروں کی نمائش کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس سے پولیس فورس کے وقار کو نقصان پہنچے یا امن و امان کے مسائل پیدا ہوں۔

یہ پورا واقعہ اس وقت پیش آیا جب دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں اور کرناٹک کے فریڈم پارک میں نوجوان امتحانات کی شفافیت کے مطالبے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ عمر خالد اور شرجیل امام کو سال 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مقدمات اور یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کے تحت طویل عرصے سے بغیر ضمانت جیل میں رکھا گیا ہے، جسے انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں اور شہری آزادیاں کاٹھنے والے کارکنان سیاسی انتقام کا نام دیتے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں مظاہرے کے دوران ان کی حمایت میں نعرے بازی سامنے آئی۔

شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جیل میں بند سماجی کارکنوں کے لیے یکجہتی کا اظہار کرنا یا انتظامیہ کی پالیسیوں پر تنقید کرنا جمہوری نظام کا حصہ ہے۔ کسی بھی پرامن مظاہرین پر محض پوسٹر لہرانے کی بنیاد پر قانونی مقدمات قائم کرنا اور انہیں جرم کا روپ دینا آزادانہ اظہارِ رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ اس معاملے پر مقامی سماجی تنظیموں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور پولیس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ انتقامی کارروائی کے بجائے انصاف اور قانون کی بالا دستی کو یقینی بنائے۔

شیئر کریں۔