مرڈیشور(فکروخبرنیوز) المعہد الاسلامی اور مدرسہ تنویر الاسلام کے باہمی اشتراک سے عربی زبان کی اہمیت و افادیت پر ایک علمی محاضرہ جمعرات 11 جون کو نمازِ عصر کے بعد مدرسہ تنویر الاسلام میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں مدرسہ تنویر الاسلام کے طلبہ کے علاوہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں زیرِ تعلیم مرڈیشور کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔
مجلس کا آغاز مولانا شرف عالم صاحب کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ انہوں نے طلبہ کی بھرپور شرکت کو علم دوستی اور عربی زبان سے ان کی دلچسپی کی علامت قرار دیا۔ بعد ازاں مولانا عبدالرحیم صاحب نے طلبہ کو قیمتی نصائح سے نوازا۔ اس موقع پر مولانا فتح اللہ جُکّا ندوی اور مولانا فیاض ندوی بھی موجود تھے۔
مولانا حماد کریمی ندوی نے عربی زبان کی ضرورت، اہمیت اور اس کے حصول کے مؤثر طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عربی زبان سیکھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ قرآنِ کریم کی زبان ہے۔ ایک مسلمان نماز میں اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، اس لیے اسے ان الفاظ اور آیات کے معانی سے واقف ہونا چاہیے جو وہ اپنی عبادت میں پڑھتا ہے۔
مولانا نے کہا کہ موجودہ دور تخصص اور مہارت کا دور ہے اور دینی علوم کے کسی بھی شعبے میں گہرائی حاصل کرنے کے لیے عربی زبان پر مضبوط دسترس ناگزیر ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کے طلبہ عربی زبان سیکھنے کے لیے نسبتاً زیادہ سازگار ماحول رکھتے ہیں، کیونکہ وہ عربی قواعد اور بے شمار عربی الفاظ و تراکیب سے پہلے ہی واقف ہوتے ہیں۔ ضرورت صرف عملی مشق اور مسلسل گفتگو کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر عربی زبان سیکھنے کا مقصد رسول اللہ ﷺ کی زبان سے وابستگی اور اس کی خدمت ہو تو یہ عمل عبادت کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔ مولانا نے عربی زبان کے ساتھ ایک مسلمان کے گہرے تعلق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پیدائش سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک مسلمان کی زندگی عربی کلمات سے جڑی رہتی ہے۔
طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہوں نے مشورہ دیا کہ روزانہ کم از کم پانچ منٹ عربی زبان میں گفتگو کی عادت ڈالی جائے۔ انہوں نے زبان سیکھنے کے چار بنیادی ذرائع—پڑھنا، لکھنا، بولنا اور سننا—کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مدارس میں عموماً پڑھنے اور لکھنے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، جبکہ بولنے اور سننے کی مشق نسبتاً کم ہوتی ہے، حالانکہ زبان پر مکمل عبور کے لیے یہ دونوں پہلو نہایت اہم ہیں۔
محاضرے کے اختتام پر عربی زبان کے فروغ کے لیے ایک عملی منصوبہ بھی طے پایا، جس کے تحت طلبہ کو ہر ہفتے ایک موضوع دیا جائے گا۔ طلبہ اس پر مطالعہ اور تیاری کریں گے، اور ہر جمعرات مولانا نابغ بلگی صاحب کی نگرانی میں اسی موضوع پر عربی زبان میں اظہارِ خیال اور تقریری مشق کریں گے۔
(محمد انوار مرڈیشورمتعلم جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شکریہ کے ساتھ)




