TISS طالب علم کو دھچکا: شرجیل امام اور عمر خالد کے حق میں نعرے بازی پر پیشگی ضمانت خارج

مبئی کی ایک سیشن کورٹ نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (TISS) کے ایک طالب علم کی پیشگی ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس واقعے سے متعلق ہے جس میں کیمپس کے اندر پروفیسر جی این سائی بابا کی یاد میں منعقدہ ایک تعزیتی پروگرام کے دوران شرجیل امام اور عمر خالد کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی گئی تھی۔ اضافی سیشن جج وی بی بوہرا نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت مسترد کر دی ہے، اور بحیثیت طالب علم تمام شہریوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملک کے قانون کا احترام کریں۔

یہ معاملہ اکتوبر 2025 کا ہے جب ممبئی پولیس نے TISS کیمپس میں پروفیسر سائی بابا کو خراج عقیدت پیش کرنے، ان کی نظمیں پڑھنے اور UAPA کے تحت جیل میں بند شرجیل امام و عمر خالد کی رہائی کے نعرے لگانے کے الزام میں متعدد طلباء کے خلاف FIR درج کی تھی۔ 32 سالہ طالب علم ابھیروپ پال نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت نے ان کی درخواست خارج کر دی۔ وہیں عدالت نے ایک اور طالبہ نکیتا ڈیسوزا کی پیشگی ضمانت منظور کر لی ہے۔

عدالت میں سماعت کے دوران طلباء کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پروفیسر سائی بابا کو عدالت UAPA کے تمام الزامات سے بریت دے چکی ہے، اور صرف "شرجیل کو رہا کرو، عمر کو رہا کرو” کے نعرے لگانا کسی بھی طرح سے جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔ تاہم جج نے اس دلیل کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سائی بابا کی تعزیت غیر قانونی نہیں تھی، لیکن اس پروگرام کا مقصد صرف تعزیت تک محدود نہیں تھا۔ عدالت نے کہا کہ یو اے پی اے (UAPA) جیسے شدید قوانین کے تحت زیر سماعت افراد کے لیے اس طرح کی نعرے بازی کے لیے یہ مناسب پلیٹ فارم نہیں تھا، خاص طور پر جب اعلیٰ ترین عدالت ان کی ضمانتیں رد کر چکی ہو۔

تحقیقاتی ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے کالعدم تنظیموں اور مخصوص نظریہ سے متعلق مواد اور کتب برآمد ہوئی ہیں۔ اگرچہ وہ کتب ممنوعہ نہیں تھیں، لیکن پولیس کے مطابق ان میں ملک کی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے مواد شامل تھے۔ عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ محض کتابیں ڈاؤن لوڈ کرنا جرم نہیں ہے، لیکن جس پس منظر میں یہ نعرے بازی کی گئی اور جو مواد سامنے آیا ہے، اس کی روشنی میں یہ جاننے کے لیے کہ ملزم کا مقصد کیا تھا، تحویل میں لے کر پوچھ گچھ (Custodial Interrogation) ضروری معلوم ہوتی ہے۔

انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں کے حوالے سے قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیمی اداروں میں پرامن اظہارِ رائے اور نعرے بازی کو براہ راست مجرمانہ سرگرمیوں سے جوڑنا ایک حساس معاملہ ہے۔ آئینِ ہند ہر شہری کو پرامن احتجاج اور اپنے خیالات کے اظہار کا حق دیتا ہے۔ تاہم، عدالتی فیصلہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب معاملہ زیر التوا سنگین مقدمات اور UAPA سے جڑا ہو، تو قانونی حدود اور عدالتی وقار کا پاس رکھنا لازمی ہے۔ اس مقدمے کے بعد تعلیمی اداروں میں طلباء کے حقوق اور اظہارِ رائے کی حدود پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

شیئر کریں۔