جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ حالات پر گہری فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کو تاکید کی ہے کہ وہ ملک میں پھیلی نفرت کی آگ کو اپنے حسنِ سلوک اور محبت سے بجھانے کی کوشش کریں۔ لکھنؤ کے اٹل بہاری باجپئی کنونشن سینٹر میں منعقدہ ایک کثیر المذاہب اجلاس کے بعد پریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام ہمیں عدل، احسان اور تمام انسانوں کے ساتھ بہتر برتاؤ کی تعلیم دیتا ہے۔ مولانا مدنی نے افسوس کا اظہار کیا کہ پچھلے کچھ برسوں کے دوران ہونے والی سیاست کے نتیجے میں اب مسلمان اور اسلام دونوں ہی فرقہ پرست عناصر کے نشانہ پر آچکے ہیں، جس نے ملک کو ایک خطرناک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ماحول کو بدلنے کے لیے دوسرے مذاہب کے ہم خیال اور انصاف پسند لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے مسلمانوں کو ایک اہم اور عملی مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سال میں کم از کم ایک بار اپنے غیر مسلم بھائیوں کو مقامی مدارس میں مدعو کریں۔ انہوں نے تشریح کی کہ مدارس کے دروازے سب کے لیے کھولنے سے مسلمانوں اور مدارس کے خلاف چلائی جا رہی منفی مہم کا مؤثر توڑ کیا جا سکے گا۔ مدارس میں دی جانے والی تعلیم، مسلمانوں کے طرزِ زندگی، اصولوں اور عقائد کے بارے میں غیر مسلموں کو براہ راست آگاہ کرنے سے معاشرے میں پھیلی بہت سی غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حالات یقیناً دھماکہ خیز ہیں، لیکن مایوس ہونے کے بجائے ہمیں اپنے کردار و عمل سے اس مایوسی کو امید میں بدلنے کی مہم کا حصہ بننا چاہیے۔
رام پور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو مسمار کرنے کی جاری تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند نے اسے ظلم کی انتہا قرار دیا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ صرف بلڈنگ پلان یا نقشہ کی منظوری نہ ہونا کوئی ایسا سنگین جرم نہیں ہے کہ اس کی پاداش میں پوری تعلیمی عمارت کو ہی ملبے کا ڈھیر بنا دیا جائے۔ انتظامیہ اس معاملے میں جرمانہ عائد کر کے بھی مسئلہ حل کر سکتی ہے، لیکن عمارتوں کو ڈھانے کی ضد سے وہاں زیرِ تعلیم ہزاروں معصوم طلبہ کا تعلیمی کریئر مکمل طور پر برباد ہو جائے گا، جس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
اجلاس میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک بنارس کے مشہور سنکٹ موچن مندر کے مہنت ڈاکٹر بشمبھر ناتھ مشرا نے بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی مٹی اور آزادی کی تحریک میں ہر برادری کا خون شامل ہے، جسے کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج کل لوگوں نے سچ بولنا چھوڑ دیا ہے، حالانکہ ملک میں جاری ناانصافی کے خلاف اب سب کو متحد ہو کر آواز بلند کرنی ہو گی۔ سپریم کورٹ کی نامور خاتون وکیل اندرا جے سنگھ نے بھی دانشور طبقے کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے اس کثیر المذاہب کانفرنس کو اتحاد کی ایک نئی کرن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین نے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دیے ہیں اور اسی آئینی برکت کے سبب وہ آج اس مقام تک پہنچی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تمام مذاہب کے لوگوں کا یہ اتحاد ثابت کرتا ہے کہ اس ملک کی سالمیت کو کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔
جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے شروع کی گئی اس ملک گیر مہم کا مقصد سماجی دوریوں کو کم کرنا اور اقلیتوں کے خلاف ہونے والی انتظامی و سیاسی کارروائیوں کے خلاف ایک مشترکہ محاذ قائم کرنا ہے۔ لکھنؤ کا یہ اجلاس اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مسلم قیادت اب قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے سیکولر اور انصاف پسند طبقے کو ساتھ ملا کر زمینی سطح پر غلط فہمیوں کو دور کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، تاکہ تعلیمی اداروں اور شہری حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔




