ندوۃ العلماء کے ناظرِ عام مولانا عمار حسنی ندوی کی جامعہ اسلامیہ بھٹکل آمد ، دو کتابوں کا عمل میں آیا اجراء

بھٹکل (فکروخبر نیوز) دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظرِ عام مولانا عمار حسنی ندوی کی جامعہ اسلامیہ بھٹکل آمد کے موقع پر جامعہ کی مسجد میں آج بعد نمازِ ظہر ایک مختصر پروگرام منعقد ہوا، جس میں مولانا موصوف کے دستِ مبارک سے دو اہم کتابوں کا اجراء عمل میں آیا۔ اس موقع پر مولانا عمار حسنی ندوی نے جامعہ کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے علمی میدان میں آگے بڑھنے اور کسی ایک علمی شعبے میں اختصاص پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تقریب میں سابق استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل ماسٹر سیف اللہ صاحب کی خدمات پر مشتمل مضامین کے مجموعے کا اجراء کیا گیا، جسے مولانا سمعان ندوی اور ڈاکٹر عبدالحمید اطہر نے ترتیب دیا ہے۔ اس موقع پر مولانا سمعان ندوی نے کتاب کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماسٹر سیف اللہ صاحب کا جامعہ کے فارغین سے گہرا تعلق رہا ہے اور اسی تعلق کا اظہار بعض فارغین نے اپنے مضامین کے ذریعے کیا ہے۔ کتاب میں ان کی شخصیت اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دوسری کتاب ’’روضۃ النساء‘‘ ہے، جو فکروخبر کے رفیق اور آن لائن فقہ کلاسز کے استاد مولانا شافع ندوی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن منظر عام پر آیا ہے۔ کتاب کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے مولانا شافع ندوی نے بتایا کہ اس سے قبل اس کے دو ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، جبکہ موجودہ ایڈیشن میں متعدد نئے پہلوؤں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ احادیث کو تفصیلی حوالوں کے ساتھ نقل کیا گیا ہے، فقہی مسائل کی ازسرِنو تحقیق کی گئی ہے اور انہیں مستند حوالوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح مسائل کو الگ الگ عنوانات کے تحت آسان اور واضح اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ معمول بہ مسائل میں اگر فقہِ شافعی کے معتمد قول سے ہٹ کر کوئی رائے ہو تو اس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

بعد ازاں مولانا عمار حسنی ندوی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی نگرانی میں اپنی علمی صلاحیتوں کو نکھارنے اور کسی مخصوص میدان میں مہارت حاصل کرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹکل اور ندوۃ العلماء کا تعلق قدیم اور گہرا ہے۔ حضرت مولانا علی میاں ندویؒ سے یہاں کے لوگوں کے قریبی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھٹکل کے لوگوں نے ندوہ کی فکر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مولانا عمار حسنی ندوی نے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے فارغین پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علمی و عملی میدان میں ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منظم انداز میں کام کے دائرے کو مزید وسیع کیا جائے اور فارغین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔

دعائیہ کلمات پر یہ نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔

شیئر کریں۔