بھٹکل (فکروخبر نیوز) ہندوستان جیسے ملک میں جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، اگر یہی نوجوان نشہ، بداخلاقی اور دیگر معاشرتی برائیوں کا شکار ہوجائیں تو انہیں ان تباہ کاریوں سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مسلمانوں کے پاس وہ شریعت موجود ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے، اس لیے ہندوستان میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار کے ذریعے معاشرے کے سامنے اسلام کی عملی تصویر پیش کریں۔ ان خیالات کا اظہار معروف عالمِ دین مولانا ابو طالب رحمانی نے مجلسِ ملیہ نوائط کالونی بھٹکل کے زیرِ اہتمام تنظیم جمعہ مسجد میں منعقدہ سیرت النبی ﷺ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا ابو طالب رحمانی نے کہا کہ ہندوستان میں ہماری پیدائش محض اتفاق نہیں، بلکہ ہمیں اس ملک کے معاشرے میں اپنے اعلیٰ اخلاق پیش کرنے اور موجود برائیوں کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام برائی کے واقع ہونے کا انتظار نہیں کرتا بلکہ پہلے ہی اس کے اسباب اور دروازوں کو بند کرتا ہے، پھر بھی اگر کوئی شخص گناہ کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے سزا کا نظام موجود ہے۔ اس کے برخلاف دنیا کا موجودہ نظام ایک طرف گناہوں اور برائیوں کے اسباب پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف ان کے لیے سزاؤں کا اعلان کرتا ہے، جو ایک طرح کی منافقت ہے۔
مولانا رحمانی نے خاندانی نظام کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج مختلف سازشوں اور منصوبوں کے ذریعے نکاح جیسے مضبوط نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کی ایک نمایاں مثال لیو اِن ریلیشن شپ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے گھروں، نکاح اور خاندانی نظام کی حفاظت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اسلام روشنی لے کر آیا ہے اور جہاں جہاں اسلام کی یہ روشنی عام ہوگی، وہاں کفر و شرک اور باطل کی تاریکیاں ختم ہوتی چلی جائیں گی۔ مسلمانوں کو اپنی شریعت اور دینی تعلیمات کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اپنے کردار اور عمل کے ذریعے اس کی خوبصورتی کو معاشرے کے سامنے پیش کرنا چاہیے معاشی جدوجہد اور تجارت کے حوالے سے مولانا ابو طالب رحمانی نے کہا کہ دنیا کمانا فی نفسہٖ کوئی بری چیز نہیں، بلکہ موجودہ دور میں اقتصادی قوت کا حاصل ہونا ایمان اور دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے مسلمانوں کو تجارت کے مقصد پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ صحابۂ کرامؓ تجارت بھی کرتے تھے اور دنیا کے معاملات میں بھی سرگرم تھے، لیکن ان کی تجارت انہیں اللہ کی معرفت، رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور اپنی دینی ذمہ داریوں سے غافل نہیں کرتی تھی۔انہوں نے کہا کہ آج صورتِ حال اس کے برعکس ہے؛ ہماری تجارت اور دنیاوی مصروفیات بعض اوقات ہمیں ہماری ایمانی ذمہ داریوں سے غافل کردیتی ہیں۔ مسلمان اور غیر مسلم تاجر کی تجارت میں بنیادی فرق بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر مسلم کی نظر تجارت میں صرف نفع پر ہوتی ہے، جبکہ مسلمان کے لیے نفع کے ساتھ نافع، یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا بھی مطلوب ہونی چاہیے۔ مسلمان کی تجارت اسے اللہ سے قریب کرنے اور معاشرے کے لیے نفع بخش بننے کا ذریعہ ہونی چاہیے۔مولانا نے نوجوان نسل کی موجودہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بڑی نوجوان آبادی اگر نشہ، بے راہ روی اور بداخلاقی کا شکار ہوگئی تو اس کے اثرات صرف افراد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوگا۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو اپنی دینی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے نئی نسل کی ایمان، اخلاق اور کردار کے اعتبار سے مضبوط تربیت کرنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ شریعت کا دائرہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے مسلمان نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ مجلسِ ملیہ نوائط کالونی بھٹکل کی جانب سے تنظیم جمعہ مسجد میں منعقدہ اس خصوصی اجلاس کی صدارت صدر مجلسِ ملیہ ڈاکٹر عتیق الرحمن منیری نے کی۔ اجلاس کے اغراض و مقاصد اور استقبالیہ کلمات جنرل سکریٹری مولانا شعور کولا ندوی نے پیش کیے، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا عبدالرقیب ایم جے ندوی نے انجام دیے۔پروگرام کا آغاز قاری احمد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ عبدالہادی نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعت پیش کی۔ اس موقع پر قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا عبدالرب ندوی، نائب قاضی جماعت المسلمین بھٹکل و خطیب تنظیم جمعہ مسجد مولانا انصار ندوی مدنی، امام تنظیم جمعہ مسجد مولانا عرفان ندوی سمیت دیگر علماء، ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کا اختتام دعائیہ کلمات کے ساتھ ہوا۔




