مغربی بنگال کی سیاست میں اس وقت ایک غیر معمولی اور ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی جب ریاست کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتا بنرجی وکیل کے روایتی لباس میں کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں۔ جمعرات کی سہ پہر عدالت کے احاطے میں اس وقت شدید کشیدگی اور افراتفری پھیل گئی جب ممتا بنرجی انتخابی تشدد سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے بعد باہر نکل رہی تھیں۔ اس دوران احتجاجی وکلاء کے ایک گروپ نے انہیں گھیر لیا اور ان کے خلاف "چور، چور” کے شدید نعرے لگائے، جس کے باعث سابق وزیراعلیٰ کو وہاں سے نکلنے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ پورا معاملہ ریاست میں 2026 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ہونے والے مبینہ تشدد سے متعلق ہے۔ ٹی ایم سی کی جانب سے دائر ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد ترنمول کانگریس کے دفاتر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کارکنوں کے خلاف منظم تشدد کیا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی، جو 1985 سے بار کونسل کی رکن ہیں، اس معاملے میں خود دلائل دینے کے لیے کالی گاؤن پہن کر چیف جسٹس سوجوئے پال اور جسٹس پارتھا سارتھی سین پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے پیش ہوئیں۔
عدالت کے اندر ممتا بنرجی نے انتہائی جذباتی انداز میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال "بلڈوزر اسٹیٹ” نہیں ہے بلکہ یہ اعلیٰ تہذیب اور ورثے کی سرزمین ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پولنگ کے بعد ہونے والے تشدد میں اب تک 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور درج فہرست ذات و قبائل (SC/ST) سمیت اقلیتی برادری کے خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خود ان کی رہائش گاہ کے باہر بھی دیر رات تک ہنگامہ آرائی کی جاتی ہے اور انہیں سکیورٹی کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ ممتا بنرجی نے عدالت سے استدعا کی کہ ریاست میں بلڈوزر کے استعمال اور سیاسی انتقام پر مبنی کارروائیوں کو روکا جائے۔
دوسری جانب، ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر اور معروف وکیل کلیان بنرجی نے بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے اندر جس طرح کا رویہ سابق وزیراعلیٰ کے ساتھ اپنایا گیا وہ انتہائی شرمناک ہے۔ کلیان بنرجی کے مطابق بی جے پی کے زیر اثر وکلاء نے جان بوجھ کر ممتا بنرجی کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مختلف علاقوں جیسے کھجوری اور ڈومجور میں ٹی ایم سی کے دفاتر مسمار کر دیے گئے ہیں اور دکانوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ ٹی ایم سی کی قانونی ٹیم نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی فوری ایف آئی آر درج کی جائے اور بلڈوزر کے ذریعے املاک کو گرانے پر عبوری روک لگائی جائے۔
عدالتی احاطے میں ہونے والی اس نعرے بازی نے ریاست کی سیاسی فضا کو مزید گرما دیا ہے۔ ٹی ایم سی قیادت کا کہنا ہے کہ جب ایک سابق وزیراعلیٰ اور سینئر وکیل عدالت کے اندر محفوظ نہیں ہے تو عام کارکنوں کا کیا حال ہوگا؟ دوسری طرف اپوزیشن وکلاء کا موقف ہے کہ یہ عوامی غصے کا اظہار ہے۔ اس واقعے کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ کی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیس کی سماعت جاری ہے اور پوری ریاست کی نظریں اب عدالت کے اگلے حکم نامے پر لگی ہوئی ہیں۔




