ممتا بنرجی کا مودی پر بڑا حملہ، سرکاری نظام کے سیاسی استعمال کا الزام

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے سرکاری نظام اور سرکاری پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہگلی ضلع کے تارکیشور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم کا قوم سے خطاب دراصل انتخابی مہم کا حصہ تھا، جسے سرکاری حیثیت کے ساتھ پیش کیا گیا، جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ ترنمول کانگریس اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور اسے الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ ان کے مطابق، خواتین ریزرویشن قانون کے حوالے سے وزیر اعظم کے خطاب میں حکمران جماعت کے حق میں ماحول بنانے کی کوشش کی گئی، جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ سرکاری منصب کا استعمال کسی جماعتی مفاد کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ خواتین ریزرویشن قانون اگر ستمبر 2023 میں منظور ہو چکا تھا تو پھر اب تک اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔ ممتا بنرجی کے مطابق ایک ہی قانون کو بار بار سیاسی موضوع بنانا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی خواتین کو نمائندگی دینا چاہتی ہے تو اسے فوری نفاذ کی سمت قدم بڑھانا چاہیے، نہ کہ صرف تقاریر تک معاملہ محدود رکھا جائے۔

وزیر اعلیٰ نے مرکز پر یہ الزام بھی لگایا کہ خواتین ریزرویشن قانون کو حلقہ بندی کے عمل سے جوڑ کر اس کے نفاذ کو مزید پیچیدہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک منظم سیاسی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا اور انتخابی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق جیسے حساس معاملے کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔

اپنی تقریر کے دوران ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت پارلیمان میں مطلوبہ سیاسی طاقت کھو رہی ہے، اس کے باوجود وہ قانون سازی کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام اب حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی کمزوری نمایاں ہو رہی ہے۔

مغربی بنگال کی سیاست میں اس بیان کے بعد ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں خواتین ریزرویشن قانون، مرکز اور ریاستی حکومتوں کے تعلقات، اور انتخابی ضابطہ اخلاق جیسے موضوعات انتخابی مہم کے اہم نکات بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین ووٹروں کے درمیان یہ مسئلہ مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

شیئر کریں۔