مغربی بنگال: 650 سالہ قدیم ادینہ مسجد کے باہر شیو لنگ نصب کرنے کا ہندوتوا تنظیم کا اعلان، کشیدگی میں اضافہ

مغربی بنگال کے ضلع مالدہ میں واقع 650 سالہ قدیم اور تاریخی ادینہ مسجد کے وجود کو نشانہ بنانے کی ایک نئی کوشش کے تحت ایک ہندوتوا تنظیم نے مسجد کے باہر 3.6 فٹ اونچا اور 1.5 ٹن وزنی شیو لنگ نصب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ‘آدیناتھ پوراتن شیو مندر’ نامی اس تنظیم کی قیادت بی جے پی کے مقامی عہدیدار کاجل گوسوامی کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے حامیوں کو مسجد کے احاطے کے باہر مذہبی رسومات ادا کرنے کی دعوت دی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کا حتمی مقصد مسجد کے اندر شیو لنگ کو منتقل کرنا ہے۔ اس اعلان کے بعد علاقے میں شدید مذہبی اور سیاسی کشیدگی پھیل گئی ہے اور مسلم کمیونٹی کی جانب سے اسلامی آثارِ قدیمہ کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

1373ء میں بنگال سلطنت کے سلطان سکندر شاہ کی تعمیر کردہ یہ عظیم الشان مسجد ہندوستان کی اسلامی ثقافتی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور شاہکار اثاثہ ہے۔ یہ عمارت حکومت ہند کے ادارہ آثارِ قدیمہ (ASI) کے تحت قومی اہمیت کی محفوظ ترین تاریخی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم، گزشتہ کچھ عرصے سے بی جے پی اور دیگر ہندوتوا رہنما اس عمارت کے خلاف مسلسل عوامی اور سیاسی مہم چلا رہے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر سمیک بھٹاچاریہ نے پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مسجد کی تعمیر قدیم مذہبی ڈھانچوں کو توڑ کر کی گئی تھی، جبکہ دیگر بی جے پی رہنماؤں نے کھلے عام اس تنازع کو بابری مسجد تحریک کے طرز پر آگے بڑھانے کا اشارہ دیا ہے۔

واقعات کے پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ فروری 2024 میں بھی ایک ہندوتوا گروپ نے مسجد کے اندر داخل ہو کر غیر قانونی طور پر مذہبی رسومات ادا کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد مقامی مسلمانوں کے احتجاج پر پولیس نے ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس کے باوجود ہندوتوا تنظیمیں قانونی چارہ جوئی اور عوامی اشتعال انگیزی کے ذریعے مسجد کی اسلامی شناخت کو چیلنج کر رہی ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکرٹری محمد سلیم نے اس صورت حال پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی یہ پرانی حکمت عملی ہے کہ وہ مذہبی رسومات کے بہانے پہلے مداخلت کرتے ہیں اور پھر فرقہ وارانہ نفرت اور تقسیم کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔

حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مالدہ پولیس اور انتظامیہ نے سخت وارننگ جاری کی ہے کہ ادینہ مسجد اینشیئنٹ مانیومنٹس اینڈ آرکیالوجیکل سائٹس اینڈ ریمینز (AMASR) ایکٹ 1958 کے تحت مکمل طور پر محفوظ عمارت ہے۔ پولیس کے مطابق کسی بھی فرد یا تنظیم کو مسجد کے احاطے یا اس کے اطراف غیر قانونی مذہبی سرگرمیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اے ایس آئی اور پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

حقوقِ انسانی اور اقلیتوں کے تحفظ کے نقطہ نظر سے ملک میں تاریخی اور مذہبی مقامات کو مسلسل تنازعات کا شکار بنانا انتہائی تشویشناک ہے۔ ملک کے آئین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت ہر مذہبی اقلیت کو اپنے عقائد، عبادات اور تاریخی ورثے کے تحفظ کا کامل حق حاصل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ اور عدالتیں ایسے اشتعال انگیز عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت قدم اٹھائیں تاکہ تاریخی ورثے کا تحفظ یقینی ہو سکے اور معاشرے میں امن و بھائی چارے کی فضا قائم رہے۔

شیئر کریں۔