کرناٹک حکومت نے ریاست بھر میں قحط کی شدت کے پیش نظر متاثرہ تعلقوں کی فہرست میں توسیع کرتے ہوئے مزید انتیس تعلقوں کو قحط زدہ قرار دے دیا ہے۔ اس تازہ ترین فیصلے کے تحت ضلع اتر کنڑ کے ساحلی اور پہاڑی علاقوں پر مشتمل چار اہم تعلقوں جن میں بھٹکل، انکولہ، سرسی اور ہلیال شامل ہیں، کو سرکاری طور پر قحط سے متاثرہ علاقوں کی فہرست میں جگہ دی گئی ہے۔ اس اقدام کے بعد ضلع میں قحط زدہ تعلقوں کی کل تعداد اب بڑھ کر چھ ہو گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ کابینی وزراء کی جانب سے ریاست کے مختلف اضلاع کے زمینی دوروں اور خشک سالی کی صورتحال پر مبنی تفصیلی جائزاتی رپورٹس پیش کیے جانے کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔ ریاست میں پہلے مرحلے کے دوران ایک سو ایک تعلقوں کو قحط زدہ قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد دوسرے مرحلے میں گیارہ مزید تعلقے شامل کیے گئے تھے۔ حالیہ اضافے کے بعد کرناٹک کے کل دو سو انتالیس تعلقوں میں سے دو سو سترہ تعلقے باقاعدہ طور پر قحط سالی کی زد میں آ چکے ہیں، جو ریاست میں زرعی بحران کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
ضلع اتر کنڑ کے عوامی نمائندوں اور ارکان اسمبلی نے ابتدائی فہرستوں میں اپنے متعلقہ علاقوں کے نام شامل نہ ہونے پر شدید بے اطمینانی کا اظہار کیا تھا اور حکومت سے فوری نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ عوامی دباؤ اور گراؤنڈ رپورٹس کی بنیاد پر حکومت نے زمینی حقائق کا ازسرنو جائزہ لیا اور ان علاقوں کو فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی۔ ضلع میں اس سے قبل پہلے مرحلے کے دوران صرف یلاپور اور منڈگوڈ کو قحط زدہ زمرے میں رکھا گیا تھا، جب کہ اب بھٹکل اور دیگر تعلقوں کی شمولیت سے ضلع کے بیشتر متاثرہ علاقوں کو سرکاری امدادی دائرے میں لایا جا چکا ہے۔
اس فیصلے کے نفاذ سے بھٹکل اور آس پاس کے متاثرہ تعلقوں میں کسانوں، دیہی مزدوروں اور عام شہریوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج، پینے کے پانی کی فراہمی، چارہ بینکوں کے قیام اور فصلوں کے معاوضے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ زرعی شعبے سے وابستہ افراد کو امید ہے کہ ریاستی انتظامیہ اب کاغذات سے نکل کر جلد از جلد عملی سطح پر ریلیف فنڈز اور بحالی کے اقدامات کو یقینی بنائے گی تاکہ خشک سالی سے متاثرہ طبقے کو فوری سہارا مل سکے۔




