نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے: مولانا شاکراللہ رشادی
بھٹکل (فکروخبر نیوز) مدینہ ویلفیئر سوسائٹی بھٹکل کے زیرِ اہتمام نونہالوں کی تعلیمی حوصلہ افزائی کے لیے تعلیمی ایوارڈ تقریب کا انعقاد سنیچر کی شب بعد نمازِ عشاء مدینہ جمعہ مسجد میں عمل میں آیا، جس میں 2024 اور 2025 کے دوران مختلف تعلیمی میدانوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے درمیان مجموعی طور پر 83 ایوارڈز تقسیم کیے گیے۔
تقریب میں ایوارڈز کو سات مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں حفظِ قرآن مکمل کرنے والے حفاظ، فضیلت کی تکمیل کرنے والے طلبہ و طالبات، ایس ایس ایل سی، پی یو سی اور مختلف شعبوں میں ڈگری و اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ شامل تھے۔ پروگرام کا بنیادی مقصد نونہالوں اور نوجوانوں کی تعلیمی میدان میں حوصلہ افزائی، ان کی صلاحیتوں کا اعتراف اور انہیں مزید آگے بڑھنے کے لیے ترغیب دینا تھا۔ تقریب میں علماء، تعلیمی و سماجی شخصیات، والدین اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امام وخطیب مسجد بلال بنگلور مولانا شاکراللہ رشادی نے مدینہ ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے انجام دی جانے والی تعلیمی و سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت ایک انتہائی اہم ذمہ داری بن چکی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور منشیات کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ نشہ نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کے ساتھ انہیں بھیانک انجام کی طرف لے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف نوجوان لڑکے منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں تو دوسری جانب بعض نوجوان لڑکیاں دین سے دوری بلکہ ارتداد تک کی راہ اختیار کر رہی ہیں، ایسے ماحول میں نئی نسل کو ایمان پر ثابت قدم رکھنا معاشرے کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل ہوتے جارہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ خاندان کی ذمہ داریاں خواتین پر منتقل ہورہی ہیں اور انہیں گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے باہر نکل کر روزگار اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے دو باتیں انتہائی باعثِ تشویش ہیں، ایک نوجوانوں کا منشیات کا شکار ہونا اور دوسری بعض لڑکیوں کا معمولی مالی مفادات کی خاطر دین سے دور ہوجانا۔ انہوں نے اس صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے نوجوانوں کی بروقت دینی، اخلاقی اور فکری رہنمائی کو ناگزیر قرار دیا۔
بھٹکل میں جاری تعلیمی و سماجی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ وہ اپنے ساتھی علماء سے ہمیشہ کہتے ہیں کہ انہیں ایک مرتبہ بھٹکل کا ضرور دورہ کرنا چاہیے تاکہ یہاں انجام دی جانے والی مختلف خدمات کو قریب سے دیکھ کر اپنے اندر بھی خدمت کا عزم پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ خطرناک حالات میں نوجوانوں کی صحیح رہنمائی، ان کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے ادارے قائم کرنا اور اپنے مال کو اس مقصد کے لیے صرف کرنا ایک عظیم خدمت ہے، جس کے اثرات پوری نسل کے مستقبل پر مرتب ہوں گے۔
صدر انجمن حامیِ مسلمین بھٹکل جناب یونس قاضیا نے تعلیم کے ساتھ تربیت اور کردار سازی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اساتذہ نے تعلیم کے ساتھ تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی، جس کا اثر آج ان کی عملی زندگی میں نمایاں ہے۔ انہوں نے طلبہ و نوجوانوں کو اپنے اساتذہ کے ادب و احترام کی تلقین کرتے ہوئے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود رکھیں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف متوجہ کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کو سڑکوں پر تیز رفتاری سے گریز اور ٹریفک قوانین کی پابندی کی بھی تاکید کی۔
انہوں نے نوجوانوں کو سول سروسز کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ قوم کو اس شعبے میں اپنی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سنجیدگی سے آگے بڑھنے والے نوجوانوں کی ہر ممکن مدد، حتیٰ کہ ان کے تعلیمی و تیاری کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے بھی آمادگی کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ ایوارڈ کی تفصیلات پروگرام کے کنوینر جناب رمیز کولا نے حاضرین کے ساتھ رکھی۔ نظامت کے فرائض مدینہ ویلفیئر سوسائٹی کے جنرل سکریٹری مولانا عبدالسمیع ندوی نے انجام دیئے۔ صدر مولانا عرفان ندوی نے صدارتی کلمات میں تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کی اور سبھوں کا شکرایہ ادا کیا۔ دعائیہ کلمات پر یہ نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔




