چنئی (فکرو خبر نیوز) مجمع الامام الشافعی العالمی (الہند) کا پانچواں تین روزہ سمینار حج ہاؤس چنئی میں آج بعد عصر شروع ہوا جس میں مجمع کے جنرل سیکریٹری اور ناظم جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور مولانا عبیداللہ ابوبکر ندوی نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں مجمع کے قیام کا پس منظر، اس کے مقاصد اور اب تک کی اس کی گراں قدر خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ مولانا نے کہا کہ فقہ شافعی کے متبعین برصغیر کے ساتھ مختلف ممالک میں بسے ہوئے ہیں لیکن ایسا کوئی متحدہ پلیٹ فارم نہیں تھا جہاں موجودہ ترقیاتی دور میں پیش آمدہ مسائل کو فقہ شافعی کی روشنی میں حل کیا جائے اور اس کے متعلق علماء کی مختلف آراء کو ایک پلیٹ فارم کے تحت لاکر اس پر اتفاق کی جائے، مولانا نے کہا کہ ایک طرف ان جدید مسائل کا حل مجمع کے سامنے ہے تو دوسری باحثین جی ایک ایسی جماعت تیار کرنی ہے جو ان جدید مسائل کو قرآن و حدیث اور مستند فقہی حوالوں کی روشنی میں امت کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے اپنے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کے اب تک چار کامیاب سیمینار تلوجہ ، کنڈلور ، اوچرا کیرالہ اور حیدرآباد میں منعقد ہوچکے ہیں اور آج کا یہ سیمینار چنئی کی تاریخی سرزمین پر منعقد ہو رہا ہے جس میں چار اہم موضوعات زیر بحث لائے جائیں گے۔ مولانا عبید اللہ ندوی نے چنئی والوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس پروگرام کے وسیع تر انتظامات کیے اور دل کی گہرائیوں سے مندوبین کا استقبال کیا۔ مولانا کے خطبہ استقبالیہ کا خلاصہ مولانا منصور کاشفی نے تمل میں پیش کیا۔ تمل زبان میں بھی مقامی علماء نے اپنے تاثرات پیش کیے اور مجمع کی کارکردگی کو سراہا اور اس کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا.واضح رہے کہ اس مجلس کی صدارت ناظم مدرسہ دارالعلوم یوسفیہ ڈنڈیگل نے کی ، تمل میں استقبالیہ کلمات مولانا یوسف نے پیش کیا، پروگرام کا آغاز مولانا سیف الدین کی تلاوت سے ہوا اور نعت عبدالمجیب نی پیش کی۔ نظامت کے فرائض مفتی اشفاق قاضی نے انجام دی۔اس نشست کے معا بعد عرض مسئلہ کی پہلی نشست منعقد ہوئی جس میں مولانا مفتی عبد الکریم ندوی نے سیرو تفریح سے متعلق بعض اہم مسائل پر عرض مسئلہ بہترین انداز میں پیش کیا اور مقالہ نگاروں کے آراء کو پیش کرتے ہوئے ان کے دلائل پر بھی روشنی ڈالی۔ اس نشست کی صدارت ناظم اور شیخ الحدیث جامعہ باقیات الصالحات ویلور مولانا عبدالحمید باقوی نے کی جنہوں نے تمل میں فقہ کی اہمیت اور موجودہ دور کے مسائل کے حل کے لیے منعقدہ اس اجلاس پر ذمہ داران کو مبارکباد پیش کی۔ صدر مجمع الامام الشافعی العالمی مولانا مفتی رفیق پورکر نے کہا کہ اصل میں عبادت برقرار رکھنی چاہیے البتہ اس کے شرائط کے ساتھ سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے ، انہوں نے زور دے کر کہا کہ علماء تحقیقی میدان میں آگے آئیں اور امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔اس نشست کی نظامت مولانا مفتی صابر نے کی۔عرض مسئلہ پر مندوبین نے اپنی مفید آراء سے بھی نوازا، دعائیہ کلمات پر نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔




