کیرالہ کے ضلع کاسرگوڈ کی ایک سیشن عدالت نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے حامی زین العابد کے بہیمانہ قتل کے بارہ سال پرانے مقدمے میں بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ تمام ۲۱ نامزد ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اچھنتھیا راج اونی نے ہفتے کے روز فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو شک و شبہے سے بالاتر ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
عدالت کی جانب سے بری کیے جانے والوں میں مقامی بی جے پی رہنما مہیش کے، اودین، پرشانتھ، پرتاپ اور ہریش بی سمیت دیگر کارکنان شامل ہیں۔ اس طویل عدالتی کارروائی کے دوران عدالت نے ۸۱ گواہوں کے بیانات قلمبند کیے، جبکہ ۲۰ مادی شواہد اور ۱۵۰ قانونی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ طویل سماعت اور جانچ پڑتال کے باوجود عدالت نے استغاثہ کے پیش کردہ شواہد کو ناکافی قرار دے کر تمام ملزمان کو الزامات سے بری کرنے کا حکم دیا۔
یہ المناک سانحہ ۲۲ دسمبر ۲۰۱۴ء کی رات کاسرگوڈ کے پرانے بس اسٹینڈ کے قریب پیش آیا تھا، جہاں تھالنگرا کنل کے رہائشی ۲۴ سالہ نوجوان زین العابد پر مہلک حملہ کیا گیا۔ استغاثہ کی چارج شیٹ کے مطابق مقتول رات ساڑھے نو بجے کے قریب اپنے والد کے اے محمد کنہی کے ساتھ ان کی گدوں کی دکان بند کروانے میں مدد کر رہا تھا کہ اچانک حملہ آوروں کے ایک گروہ نے دکان میں گھس کر تیز دھار ہتھیاروں سے اس پر اندھا دھند وار کیے۔ چیخ و پکار سن کر آس پاس کے دکاندار مدد کے لیے دوڑے، مگر حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
شدید زخمی حالت میں زین العابد کو فوری طور پر کاسرگوڈ کے ایک نجی اسپتال لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر انہیں بہتر علاج کے لیے منگلورو منتقل کیا گیا۔ تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اگلے روز یعنی ۲۳ دسمبر ۲۰۱۴ء کو دم توڑ گئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ۲۱ افراد کو گرفتار کیا تھا، جس نے اس وقت ریاست کی سیاست اور امن و امان کی فضا میں شدید ہلچل مچا دی تھی۔




