بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی شدید نظرِ ثانی (SIR-2026) کے دوران ‘ASDDO’ زمرے میں شامل کیے گئے 1.11 کروڑ سے زائد ووٹرز کے حوالے سے عوام میں پائی جانے والی تشویش کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ووٹرز کے نام فی الحال ووٹر لسٹ سے حذف نہیں کیے گئے ہیں، بلکہ وہ صرف تصدیقی (Verification) کے مرحلے میں ہیں۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ مطلوبہ ثبوت پیش کرنے کے بعد اہل ووٹرز کے نام دوبارہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل کر دیے جائیں گے۔
چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) وی انبوکمار کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، 4 اگست 2026 تک ریاست کے 5.54 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 1,11,07,461 (20.03 فیصد) ووٹرز کو ASDDO (Absent, Shifted, Dead, Duplicate and Others) زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے تقریباً 50 لاکھ ووٹرز صرف بنگلورو اربن کے چار اسمبلی حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ 17 اگست کو شائع ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ASDDO زمرے کے ووٹرز کے نام عارضی طور پر ظاہر نہیں ہوں گے، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کے ووٹ مستقل طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ یہ صرف تصدیقی عمل کا حصہ ہے، جس کے دوران متعلقہ ووٹر اپنی رہائش اور شناخت کے ثبوت پیش کر کے اپنا نام بحال کرا سکتے ہیں۔
کمیشن نے عوام کی سہولت کے لیے ایک خصوصی آن لائن پورٹل بھی جاری کیا ہے، جہاں ہر شہری اپنے ووٹ کی موجودہ حیثیت معلوم کر سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ASDDO زمرے میں 66.64 لاکھ منتقل شدہ (Shifted)، 16.30 لاکھ غیر حاضر (Absent)، 16.30 لاکھ متوفی (Dead)، 6.89 لاکھ ڈپلیکیٹ (Duplicate) اور دیگر زمروں کے ووٹر شامل ہیں، جن کی مرحلہ وار جانچ کی جا رہی ہے۔
کمیشن نے تمام ایسے شہریوں سے اپیل کی ہے جنہیں شبہ ہے کہ ان کا نام غلطی سے اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے، وہ 8 اگست سے قبل اپنے بوتھ لیول آفیسر (BLO) یا الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) سے رابطہ کر کے مطلوبہ دستاویزات جمع کرائیں تاکہ ان کا نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا سکے۔
الیکشن حکام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ASDDO فہرست کو ووٹر لسٹ سے اخراج کی حتمی فہرست نہ سمجھا جائے، کیونکہ اس کا مقصد صرف ووٹر فہرست کی درستگی کو یقینی بنانا ہے، اور تصدیق کے بعد اہل ووٹرز کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔



