لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر ایک انتہائی ہنگامہ خیز اور طویل بحث کا آغاز ہوا، جس کے لیے اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے کل 10 گھنٹے کا وقت مقرر کیا۔ بحث کے دوران کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کے سینئر ارکان نے پیپر لیک واقعات، طلبہ پر پولیس کے لاٹھی چارج، پیلٹ گنز کے استعمال اور تعلیمی نظام کی زبوں حالی کے معاملے پر مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے حکومت پر تند و تیز حملے کرتے ہوئے کہا کہ 2024 کے قانون کے باوجود آج تک کسی پیپر لیک کے ملزم کو سزا نہیں مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے معصوم طلبہ کو تو بدنام کیا جا رہا ہے جبکہ اصل مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ آر ایم ایل ہسپتال میں زیر علاج زخمی طلبہ کی حالت دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ امت شاہ سے براہ راست سوال کیا کہ طلبہ اور خصوصاً طالبات پر پیلٹ گنز اور آنسو گیس چلانے کا حکم کس نے دیا؟ انہوں نے کہا کہ ملک میں ووٹ اور چندے کی چوری تو سنی تھی، لیکن سب سے بڑی چوری نوجوانوں کے خوابوں کی چوری ہے۔
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اتر پردیش حکومت اور مرکزی حکومت پر تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت آزادی کے مجاہدین کے نام پر قائم یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں کے خلاف ہتھوڑا لے کر بیٹھی ہے۔ اکھلیش یادو نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ "جو لوگ مندروں کے چندے اور چڑھاوے کی حفاظت نہیں کر سکے، وہ پرچے لیک ہونے سے کیسے روکیں گے؟” انہوں نے کہا کہ ملک کے کروڑوں نوجوانوں نے اپنے متحد احتجاج سے یہ ثابت کر دیا کہ ظالم سے ظالم حکومت کو بھی جھکایا جا سکتا ہے۔
ترنمول کانگریس کے نائب صدر اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں سی بی ایس ای اور نیٹ سمیت درجنوں امتحانات کے پرچے لیک ہوئے لیکن ایک بھی ملزم کو سزا نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ معلوم ہے کہ ہر منٹ میں کتنے یو پی آئی لین دین ہوتے ہیں لیکن اس کے پاس پیپر لیک کے واقعات کا کوئی جامع اعداد و شمار نہیں ہے۔ ابھیشیک بنرجی کی تقریر کے دوران ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا، جس پر ٹی ایم سی رکن مہوا موئترا نے اسپیکر سے مداخالت کی اپیل کی۔
کانگریس کے سینئر رہنما گورو گوگوئی نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی قیادت اور اس کے چیئرمین کو عہدے پر برقرار رکھنے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ایک خاص نظریاتی وابستگی کی وجہ سے این ٹی اے کے اعلیٰ حکام کو بچا رہی ہے۔ گوگوئی نے کہا کہ محض سزائیں بڑھا دینے سے تعلیمی نظام سدھرنے والا نہیں ہے، حکومت کو نوجوانوں کی بے چینی اور خودکشیوں کی بڑھتی تعداد کا جواب دینا ہوگا۔
دوسری جانب حکومت کی طرف سے صفائی پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مجوزہ ترمیم کے تحت خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی جہاں دو ماہ کے اندر تفتیش مکمل ہو گی اور تین ماہ کے اندر عدالت فیصلہ سنائے گی۔ یعنی پورا مقدمہ 5 ماہ کے اندر منطقی انجام تک پہنچے گا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت طلبہ کے مستقبل سے جڑے اس معاملے پر ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔




