بنگلور میں 16 مئی کو ‘کرناٹک مسلم کنونشن’ کا انعقاد: کانگریس حکومت کی کارکردگی پر اہم رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ

کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں ریاست کی تمام بڑی مسلم تنظیموں، اداروں، علمائے کرام اور دانشوروں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کانگریس حکومت کی تین سالہ کارکردگی پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 16 مئی کو ایک بڑے پیمانے پر ‘کرناٹک مسلم کنونشن’ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز شیواجی نگر کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ اس مشاورتی اجلاس میں کرناٹک راجیہ مسلم اوکوٹا (KRMO) کی ایڈہاک کمیٹی کے نمائندوں سمیت پوری ریاست سے 75 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ اجلاس کا مرکزی ایجنڈا مسلم کمیونٹی سے کیے گئے وعدوں کی عدم تکمیل اور حکومت کے رویے کا جائزہ لینا تھا۔

اجلاس کے دوران ماہرین کی ٹیم کی تیار کردہ ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس کا عنوان ‘کانگریس حکومت نے کیا کہا؟ کیا کیا؟ اور اب آگے کیا؟’ رکھا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں حجاب پر پابندی، تحفظات کی منسوخی، نفرت انگیز تقاریر، بجٹ کی تقسیم، سیاسی نمائندگی اور وقف جیسے 10 اہم ترین مسائل پر کانگریس کے انتخابی وعدوں اور زمینی حقائق کا موازنہ کیا گیا ہے۔ شرکاء نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ برسراقتدار آنے کے بعد بھی مسلم کمیونٹی کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں اور نمائندگی کے معاملے میں بھی امتیاز برتا جا رہا ہے۔

اجلاس میں موجود قائدین نے واضح کیا کہ اگر کانگریس پارٹی اور حکومت کا یہی رویہ رہا تو مسلم کمیونٹی اپنے سیاسی متبادل کے راستے کھلے رکھنے پر مجبور ہوگی۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 16 مئی 2026 کو بنگلور کے تاریخی ٹاؤن ہال میں ایک عظیم الشان عوامی کنونشن منعقد کیا جائے گا جہاں یہ رپورٹ باضابطہ طور پر عوام کے سامنے لائی جائے گی۔ اس کنونشن کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسی بھی سیاسی لیڈر کو مدعو نہیں کیا جائے گا، بلکہ یہ خالصتاً کمیونٹی کی قیادت میں ایک عوامی بیداری کی مہم ہوگی۔

ریاستی سطح پر منعقد ہونے والے اس کنونشن میں تمام اضلاع سے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف جماعتوں اور فیڈریشنز کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ رپورٹ کی اشاعت کے بعد اس کی کاپیاں وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ اور تمام وزراء کو بھی ارسال کی جائیں گی تاکہ حکومت کو کمیونٹی کے مطالبات اور ان کی ناراضگی کا براہ راست احساس دلایا جا سکے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ریاست میں مسلمانوں کے سیاسی اور سماجی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

شیئر کریں۔